.

برطانیہ:سابق وزیراعظم نوازشریف کے ویزامیں توسیع کی درخواست مسترد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ کے محکمہ داخلہ نے پاکستان کی حزب اختلاف کی بڑی جماعت مسلم لیگ۔ن کے سربراہ اورسابق وزیراعظم میاں نوازشریف کے ویزے میں توسیع کی درخواست مسترد کردی ہے۔

پاکستان مسلم لیگ۔ن کی ترجمان مریم اورنگ زیب نے ایک بیان میں اس کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ برطانوی محکمہ داخلہ نے محمد نواز شریف کے ویزے میں مزید توسیع سے معذرت کرلی ہے اور کہا ہے کہ وہ امیگریشن ٹریبونل میں اس فیصلے کے خلاف اپیل دائرکرسکتے ہیں۔

اس کے بعدمیاں نوازشریف کے وکلاء نے برطانوی امیگریشن ٹریبونل میں اپیل دائرکردی ہے۔مریم اورنگ زیب کا کہنا ہے کہ ’’محکمہ داخلہ کا حکم اس اپیل کے فیصلے تک ’’غیرمؤثر‘‘رہے گا اورسابق وزیراعظم اپیل کا فیصلہ ہونے تک قانونی طور پر برطانیہ میں مقیم رہ سکتے ہیں۔‘‘


میاں نواز شریف نومبر 2019ء سےلندن میں غیربرطانوی شہری کے طور پررہ رہے ہیں۔ تب انھیں طبّی علاج کے لیے ملک سے باہرجانے کی اجازت دی گئی تھی اور برطانوی حکومت ان کے ویزے کی میعاد میں چھے ، چھے ماہ کی توسیع کرتی رہی ہے لیکن اس مرتبہ اس نے ایک وکیل کے ذریعے دائرکردہ ویزے میں توسیع کی درخواست مسترد کر دی ہے۔

اگر برطانیہ کا امیگریشن ٹرائبیونل مسلم لیگ ن کے سربراہ کی اپیل مسترد کردیتا ہے تو انھیں پھر اس کے خلاف عدالت میں اپیل دائرکرنے کا اختیار بھی حاصل ہے۔

اس پیش رفت پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے وزیر اطلاعات فواد حسین چودھری نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا:’’ایسی اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ برطانوی حکومت نے نواز شریف کی ویزا میں توسیع کی درخواست مسترد کردی ہے۔ یہ ایک خوش آیندخبرہے۔ یہ واضح تھا کہ نوازشریف کی طبیعت خراب نہیں اور انھوں نے برطانیہ کا ویزا حاصل کرنے کے لیے جھوٹ بولا تھا۔‘‘

وزیراطلاعات نے ایک اور ٹویٹ میں کہا:’’ پاکستانی عوام اور حکومت برطانوی حکومت پر زور دیتے ہیں کہ وہ ایسے افراد کو پناہ نہ دیں جو اپنے ملک میں اربوں روپے کی بدعنوانیوں میں ملوّث رہے ہیں۔‘‘

انھوں نے مزید کہا:’’میری رائے میں میاں نوازشریف کو لندن میں پاکستانی سفارت خانہ سے رجوع کرنا چاہیے، وہاں سے اپنے عارضی سفری کاغذات حاصل کرنے چاہییں اور اپنے مقدمات کا سامنا کرنے کے لیے پاکستان لوٹ آنا چاہیے۔‘‘

واضح رہے کہ گذشتہ سال دسمبر میں وزیراعظم عمران خان کے مشی برائے احتساب و داخلہ مرزا شہزاد اکبر نے پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ’’پاکستان نے نواز شریف کا ویزا منسوخ کرنے کے لیے برطانیہ کو خط لکھا تھا۔انھیں یہ ویزا برطانیہ میں طبی بنیاد پرعلاج کے لیے جاری کیا گیا تھا۔‘‘

انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ’’برطانیہ نے میاں نوازشریف کے ویزے میں مزید چھے ماہ کی توسیع نہیں کی تھی اور ان کی ملک بدری کے لیے برطانیہ کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔‘‘