.

کوئٹہ:سرینا چوک کے نزدیک بم دھماکا؛ 2 پولیس اہلکار شہید، 9 زخمی

موٹرسائیکل کے ساتھ نصب دھماکا خیز مواد سے پولیس کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا، زخمی اسپتال منتقل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں سرینا چوک کے نزدیک اتوار کی شب بم دھماکے میں دو پولیس اہلکار شہید اور نو زخمی ہو گئے ہیں۔

پولیس کے مطابق دھماکاخیزمواد ایک موٹرسائیکل کے ساتھ نصب تھا۔اس کے پھٹنے سے زوردار دھماکا ہوا ہے۔ دھماکا اس قدر شدید تھا کہ اس کی آواز دور دور تک سنی گئی ہے اور نزدیک واقع عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے ہیں۔

دھماکے کی اطلاع ملتے ہی سیکیورٹی فورسز نے علاقے کا گھیراؤکر لیا اور امدادی ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔زخمیوں کو ایمبولینسوں کے ذریعے سول اسپتال کوئٹہ منتقل کردیا گیا ہے۔

بلوچستان حکومت کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ تنظیم چوک کے نزدیک پولیس کی ایک موبائل گاڑی کو دھماکے میں نشانہ بنایا گیا تھا۔اس حملے میں چارراہگیر بھی زخمی ہوئے ہیں۔

انھوں نے دھماکے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ دہشت گرد بلوچستان کا امن تباہ اور لوگوں میں خوف وہراس پھیلانا چاہتے ہیں۔صوبہ کے وزیراعلیٰ جام کمال نے بھی اس بم حملے کی مذمت کی ہے اور دوپولیس اہلکاروں کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

کوئٹہ ہی میں سریاب روڈ پر 14 اگست کو یوم آزادی کے سلسلے میں قومی پرچم اور جھنڈیاں بیچنے والا ایک دکان دار دستی بم کے حملے میں زخمی ہوگیا ہے۔ایک نامعلوم شخص نے اس کے ٹھیلے کی جانب دستی بم پھینکا تھا۔

واضح رہے کہ گذشتہ ماہ کوئٹہ میں چار ستارہ سیرینا ہوٹل کے باہر دھماکے میں ایک پولیس اہلکار سمیت پانچ افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔دہشت گردی کے اس واقعہ کے بعد سے شہر میں متعدد بم دھماکے ہوچکے ہیں۔ان میں سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔