ترکی افغان مہاجرین کے نئے سیلاب کوروکنے کے لیے پاکستان کے ساتھ مل کرکام کرے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ترک صدررجب طیب ایردوآن نے اتوار کو کہا ہے کہ ان کا ملک افغانستان کے استحکام اور پناہ گزینوں کے نئے سیلاب کی روک تھام میں مدد کے لیے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔

انھوں نے پاکستانی ہم منصب عارف علوی سے بات چیت میں کہا کہ ’’ترکی کو اس وقت ایران سے گزر کر آنے والے افغان مہاجرین کی بڑھتی ہوئی لہرکا سامنا ہے۔ہم افغانستان اورخطے بھرمیں استحکام کے لیے کوششیں جاری رکھیں گے۔اس مقصد کے لیے ہم پاکستان کے ساتھ اپنے تعاون کو مضبوط بنائیں گے۔‘‘

ترک صدر نے کہا کہ ’’ہم افغانستان میں استحکام کی غرض سے تمام ذرائع کو بروئے کارلانے کے لیے پرعزم ہیں۔‘‘وہ افغانستان سے امریکی اور نیٹوفوج کے انخلا اور طالبان کے کابل میں داخلے کے تناظرمیں گفتگو کررہے تھے۔

صدرعارف علوی ترکی کی جانب سے پاکستان کے لیے تیارکردہ بحری جہازکی افتتاحی تقریب میں شرکت کے لیے استنبول کے دورے پرتھے۔

ترکی کے افغانستان میں اس وقت کئی سو فوجی تعینات ہیں۔ اس نے اگست کے آخر تک امریکا کے فوجی انخلا کی تکمیل کے بعد کابل کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کا سیکورٹی کنٹرول سنبھالنے کی پیش کش کررکھی ہے،اس کے لیے اس نے مالی اور لاجسٹک معاونت مہیا کرنے کی شرط عاید کی تھی لیکن گذشتہ ایک ہفتے کے دوران میں جنگ زدہ ملک کی صورت حال یکسر تبدیل ہوگئی ہے۔

طالبان ترکی کی جانب سے کابل ائیرپورٹ کے انتظامی کنٹرول کی پیش کش کو مستردکرچکے ہیں۔اس کے ردعمل میں صدرایردوآن نے طالبان کے قائد سے ملاقات کی تجویز بھی پیش کی ہے۔

ترکی کی مشرقی سرحد پر افغان تارکین وطن کی آمد انقرہ میں ایک گرم گرماسیاسی موضوع بن چکی ہے۔ترک حزب اختلاف حکومت پر دباؤ ڈال رہی ہے کہ وہ افغان مہاجرین کے ملک میں داخلے کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کرے۔

اس کے جواب میں حکومت نے حالیہ دنوں میں ایران کے ساتھ واقع سرحد پردیوار کی تعمیر میں تیزی لائی ہے۔صدرایردوآن نے اتوار کے روز کہا کہ اس دیوار کی تعمیر سے ہم ایران سے تارکین وطن کے اپنے ملک میں داخلے کو مکمل طور پرروک سکیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں