.

ترکی افغان مہاجرین کے نئے سیلاب کوروکنے کے لیے پاکستان کے ساتھ مل کرکام کرے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک صدررجب طیب ایردوآن نے اتوار کو کہا ہے کہ ان کا ملک افغانستان کے استحکام اور پناہ گزینوں کے نئے سیلاب کی روک تھام میں مدد کے لیے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔

انھوں نے پاکستانی ہم منصب عارف علوی سے بات چیت میں کہا کہ ’’ترکی کو اس وقت ایران سے گزر کر آنے والے افغان مہاجرین کی بڑھتی ہوئی لہرکا سامنا ہے۔ہم افغانستان اورخطے بھرمیں استحکام کے لیے کوششیں جاری رکھیں گے۔اس مقصد کے لیے ہم پاکستان کے ساتھ اپنے تعاون کو مضبوط بنائیں گے۔‘‘

ترک صدر نے کہا کہ ’’ہم افغانستان میں استحکام کی غرض سے تمام ذرائع کو بروئے کارلانے کے لیے پرعزم ہیں۔‘‘وہ افغانستان سے امریکی اور نیٹوفوج کے انخلا اور طالبان کے کابل میں داخلے کے تناظرمیں گفتگو کررہے تھے۔

صدرعارف علوی ترکی کی جانب سے پاکستان کے لیے تیارکردہ بحری جہازکی افتتاحی تقریب میں شرکت کے لیے استنبول کے دورے پرتھے۔

ترکی کے افغانستان میں اس وقت کئی سو فوجی تعینات ہیں۔ اس نے اگست کے آخر تک امریکا کے فوجی انخلا کی تکمیل کے بعد کابل کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کا سیکورٹی کنٹرول سنبھالنے کی پیش کش کررکھی ہے،اس کے لیے اس نے مالی اور لاجسٹک معاونت مہیا کرنے کی شرط عاید کی تھی لیکن گذشتہ ایک ہفتے کے دوران میں جنگ زدہ ملک کی صورت حال یکسر تبدیل ہوگئی ہے۔

طالبان ترکی کی جانب سے کابل ائیرپورٹ کے انتظامی کنٹرول کی پیش کش کو مستردکرچکے ہیں۔اس کے ردعمل میں صدرایردوآن نے طالبان کے قائد سے ملاقات کی تجویز بھی پیش کی ہے۔

ترکی کی مشرقی سرحد پر افغان تارکین وطن کی آمد انقرہ میں ایک گرم گرماسیاسی موضوع بن چکی ہے۔ترک حزب اختلاف حکومت پر دباؤ ڈال رہی ہے کہ وہ افغان مہاجرین کے ملک میں داخلے کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کرے۔

اس کے جواب میں حکومت نے حالیہ دنوں میں ایران کے ساتھ واقع سرحد پردیوار کی تعمیر میں تیزی لائی ہے۔صدرایردوآن نے اتوار کے روز کہا کہ اس دیوار کی تعمیر سے ہم ایران سے تارکین وطن کے اپنے ملک میں داخلے کو مکمل طور پرروک سکیں گے۔