.

سعودی مسلح افواج کے سربراہ جنرل فیاض الرویلی کی وزیراعظم عمران خان سے ملاقات

دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے علاوہ باہمی دلچسپی کے مختلف عالمی اورعلاقائی امورپرتبادلہ خیال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی مسلح افواج کے سربراہ جنرل فیاض بن حمید الرویلی نے سوموار کے روز پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کی ہے اور ان سے دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے علاوہ باہمی دلچسپی کے مختلف علاقائی اور عالمی امورکے بارے میں تبادلہ خیال کیا ہے۔

عمران خان نے ایوان وزیر اعظم، اسلام آباد میں سعودی وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے لیے والہانہ جذبات کا اظہار کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’پاکستان کے عوام سعودی عرب کی قیادت کو ہمیشہ عزت واحترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور اس کو خصوصی اہمیت دیتے ہیں۔‘‘

انھوں نے پاکستان کی جانب سے سعودی عرب کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت اور دونوں ملکوں کے درمیان قریبی دوستانہ تعلقات کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ دوطرفہ تعاون کو مزید بڑھانا اور دونوں عوام کے درمیان روابط کو مضبوط بناناچاہتا ہے۔

انھوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ حال ہی میں تشکیل شدہ سعودی، پاکستان سپریم رابطہ کونسل مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔

عمران خان نے دونوں ملکوں کے درمیان دفاعی شعبے میں تعلقات پر اطمینان کا اظہار کیا اور امید ظاہر کی ہے کہ آیندہ برسوں میں دوطرفہ دفاعی تعاون کو مزیدفروغ ملے گا۔

جنرل الرویلی نے ان سے گفتگو کرتے ہوئے دونوں ملکوں کے درمیان شاندار تعاون کو تسلیم کیا اور پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا۔ملاقات میں یمن کی تازہ صورت حال کے بارے میں بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیراعظم نے پاکستان کی جانب سے یمن میں جاری بحران کو بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے کے لیے کوششوں کی حمایت کا اظہار کیا اور اس ضمن میں سعودی عرب کی کاوشوں اور اقدامات کو سراہا۔

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دیرینہ تاریخی اور برادرانہ تعلقات استوار ہیں۔وہ مشترکہ عقیدے، تاریخ کی گہری لڑی میں پروئے ہوئے ہیں اور مختلف عالمی اور علاقائی امور کے بارے میں یکساں مؤقف کے حامل ہیں۔دونوں ملکوں کے درمیان اعلیٰ سطح پر ملاقاتوں اور وفود کا تبادلہ ہوتا رہتا ہے جس سے ان کے درمیان شاندار دوستانہ تعلقات کی بھی عکاسی ہوتی ہے۔