.

پی آئی اےنے افغانستان سےغیرملکیوں کےانخلا کے لیے پروازوں کی تعداد بڑھادی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان میں اس ہفتے حالات ابترہونے کے بعد غیرملکی سفارت خانوں، بین الاقوامی اداروں اور کمپنیوں نے اپنے ملازمین اور اہلکاروں کے بہ حفاظت انخلا کی منصوبہ بندی شروع کردی ہے اور انھوں نے اس ضمن میں کابل میں پاکستانی سفارت خانہ کے ذریعے پاکستان کی قومی فضائی کمپنی (پی آئی اے) سے رابطہ کیاہے۔

پی آئی اے نے انسانی بنیاد پرکابل کے لیے اپنی پروازوں کی نئی منصوبہ بندی کی ہے تاکہ غیرملکی سفارت کاروں اورشہریوں کے انخلا کے مشن میں معاونت مہیا کی جا سکے۔

پی آئی اے کے ترجمان نے کہا ہے کہ قومی فضائی کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسرایئر مارشل ارشد ملک نے انسانی ضروریات کے پیش نظراورعلاقائی سطح پر ایک بڑی فضائی کمپنی ہونے کے ناتے افغانستان میں مقیم غیر ملکی شہریوں، عالمی اداروں اور بین الاقوامی کمپنیوں کے اہلکاروں کو بہ حفاظت نکالنے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

انھوں نے کہا کہ افغانستان سے بہ حفاظت انخلاء کے ضمن میں پی آئی اے سے امریکی شہریوں، فلپائن، کینیڈا، جرمنی، جاپان اور ہالینڈ کے سفارت کاروں سمیت عالمی اداروں، بین الاقوامی خبر رساں ایجنسیوں نے رابطہ کیا ہے اور اپنے لوگوں کو کابل سے نکالنے کے لیے پی آئی اے کی استعداد اور پروازوں کے اوقات کار کے حوالہ سے معلومات حاصل کی ہیں۔

ترجمان نے بتایا کہ قبل ازیں پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائنز کابل اور اسلام آباد کے درمیان ہفتے میں پانچ پروازیں چلا رہی تھی اوراس روٹ پر ایئربس اے۔320 چلا رہی تھی۔ انھیں فوری طور پر بڑے طیاروں بوئنگ۔777 کی پروازوں میں تبدیل کردیا گیا ہے اور مسافروں کی ضروریات کے پیش نظررواں ہفتہ کے دوران میں پروازوں کی تعداد14 تک بڑھانے کا فیصلہ کیا گیاہے۔ یہ منصوبہ بندی پی آئی اے کے فلائٹ آپریشن، فلائٹ سیفٹی، سکیورٹی اور مقامی حکام پر مشتمل خصوصی آپریشنل ڈیسک نے کی ہے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ پی آئی اے کے سی ای او اس ڈیسک کی براہ راست نگرانی کر رہے ہیں اور وہ افغانستان کی سول ایوی ایشن اتھارٹی، فوجی حکام، کابل میں پاکستانی سفارت خانہ اور وزارت خارجہ سے رابطے میں ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ دوروز میں ہم نے کابل سے 1100 افراد کو نکالا ہے،اس کے بعد کابل ایئرپورٹ پرعوام کا ہجوم امڈ آیا تھا اور ایئرپورٹ کا نظام درہم برہم ہوکررہ گیا تھا۔

انھوں نے بتایاکہ پی آئی اے نے اب کابل کے لیے اپنی پروازیں بحال کردی ہیں۔ طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد پہلی پرواز کابل پہنچ چکی ہے جو عالمی بینک کے 320 سے زیادہ اہلکاروں کو پاکستان پہنچائے گی۔ پروازوں کے آیندہ اوقاتِ کار کی بھی منصوبہ بندی کی گئی ہے اور جمعرات سے بین الاقوامی صحافیوں سمیت دیگرغیرملکی شہریوں کو افغانستان سے نکالنے کے لیے پروازیں چلائی جائیں گی۔