.

بہاول نگر میں یوم عاشورکے جلوس میں دھماکا؛3افراد ہلاک، 30 زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

صوبہ پنجاب کے جنوبی شہر بہاول نگر میں یوم عاشور کے جلوس میں دھماکے میں تین افراد ہلاک اور کم سے کم 30 زخمی ہو گئے ہیں۔ زخمیوں میں دو کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔

پنجاب کے وزیرداخلہ اور قانون راجا بشارت نے بتایا ہے کہ ایک شخص نے جمعرات کی صبح دس بجے کے قریب بہاول نگر کی مہاجر کالونی میں جامع مسجد کے قریب سے گزرنے والے جلوس پر دستی بم پھینکا تھاجس کے پھٹنے سے دھماکا ہوا ہے۔پولیس نے اس مشتبہ حملہ آور کو حراست میں لے لیا ہے اور اس سے پوچھ تاچھ جاری ہے۔

دھماکے میں 26زخمی افراد کوبہاول نگر کے ضلعی ہیڈکوارٹر اسپتال میں منتقل کردیا گیا ہے اورچار شدید زخمیوں کو بہاول پور کے بہاول وکٹوریہ اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں ان میں سے دو کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔بعض غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق اس دھماکے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد پانچ ہوگئی ہے۔

پنجاب حکومت نے اس واقعے کے بعد بہاول نگر میں رینجرز کو تعینات کردیا ہے اور مزید تفتیش جاری ہے۔دریں اثنا وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے سیف سٹی اتھارٹی میں اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کی۔انھوں نے محکمہ انسداد دہشت گردی کوبہاول نگر دھماکے تحقیقات مکمل کرنے کے بعد رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

جلوسوں کی حفاظت

پاکستان بھر کے تمام چھوٹے اور بڑے شہروں میں یوم عاشور کے جلوسوں کے لیے سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔

سب سے بڑے شہر کراچی میں پولیس کے میڈیا سیل نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ مرکزی جلوس کی سکیورٹی کے لیے 6368 پولیس اہلکار، سریع الحرکت فورس کی تین ٹیمیں اور اسپیشل سکیورٹی یونٹ کے 90 اسنائپرتعینات کیے گئے ہیں۔

پریس ریلیز کے مطابق کراچی میں 10 محرم کو 218 جلوس نکالے جارہے ہیں اور شہر بھر میں مجموعی طور پر 12455 سیکورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔نیزمتبادل راستوں کے حوالے سے مسافروں کی رہ نمائی کے لیے ٹریفک پولیس کے ایک ہزار سے زیادہ اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔

ملک کے دوسرے بڑے شہر لاہور کے مختلف علاقوں سے 46 جلوس نکالے گئے ہیں اور راستوں پر سیکورٹی کے لیے متعلقہ پولیس ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں۔سٹی پولیس کے مطابق جلوسوں کی سیکورٹی کے لیے64 انسپکٹر، 121 پٹرولنگ افسروں اور726 وارڈنز کو مختلف مقامات پر تعینات کیا گیا ہے۔