.

17 سال سے زائد عمر کے طلبہ کے لیے 15 ستمبر تک ویکسین کی ایک خوراک لگوانا لازمی قرار

30 دستمبر کے بعد مکمل ویکسی نیشن نہ ہونے پر اندورن یا بیرون ملک ہوائی سفر ممنوع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وفاقی وزیر منصوبہ بندی اور نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے چیئرمین اسد عمر نے کہا ہے کہ 17 سال اور اس سے زائد عمر کے طلبہ کے لیے 15 ستمبر تک ویکسین کی ایک خوراک لگوانا لازمی ہوگا.

طلبہ کے ٹرانسپورٹیشن عملے کے لیے 31 اگست تک ویکسینیشن لازمی ہوگی جبکہ 30 دستمبر کے بعد مکمل ویکسینیشن نہ ہونے پر اندورن یا بیرون ملک کے لیے ہوائی سفر کی اجازت نہیں ہوگی۔

وفاقی وزیر منصوبہ بندی اور پاکستان میں کرونا کی روک تھام کے نگراں ادارے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے سربراہ اسد عمر نے اعلان کیا ہے کہ 30 ستمبر کے بعد ویکسین کا کورس مکمل نہ کرنے والے ملک کے اندر اور باہر سفر نہیں کر سکیں گے۔

اسد عمر نے نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ 15 اکتوبر کے بعد ویکسین کا کورس مکمل نہ کرنے والوں کو پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرنے نہیں دیا جائے گا۔

اسد عمر نے کہا کہ 17 سال اور اس سے زائد عمر کے طلبہ کے لیے 15 ستمبر تک ویکسین کی ایک ڈوز لگانا لازم ہے۔ ویکسین کورس مکمل نہ کرنے والے 30 ستمبر کے بعد شادی کی تقریبات میں شرکت نہیں کر سکیں گے۔

انھوں نے مزید بتایا کہ این سی او سی کے اجلاس میں فیصلے کیا گیا کہ ہوٹل اور گیسٹ ہاؤس میں بھی 30 اگست اور 30 ستمبر کی پابندیاں لاگوہوں گی۔

اسد عمر نے موٹر ویز اور ہائی ویز پر سفر کرنے والے مسافروں پر پابندی کے حوالے سے کہا کہ موٹر ویز پر سفر کرنے والوں کے لیے 15 ستمبر تک پہلی جبکہ 18 اکتوبر تک مکمل ویکسینیشن لازمی ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ ہائی ویز پر سفر کرنے والوں کے لیے 30 ستمبر اور 31 اکتوبر تک بالترتیب ایک اور دو ویکسی نیشن لگوانا لازمی ہوگا۔

این سی او سی کے چیئرمین نے واضح کیا کہ کرونا سے متعلق نئی پابندیوں کے اطلاق کے لیے انتظامی معاملات میں مزید بہتری لائی جاری ہے جبکہ اس میں ضمن میں ٹیکنالوجی کا استعمال بھی کیا جائے گا۔

پریس کانفرنس کے دوران وزیرِ اعظم عمران خان کے معاونِ خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان بھی موجود تھے جن کا کہنا ہے کہ جعلی کرونا سرٹیفکٹ بنانے والوں کے خلاف کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔

علاوہ ازیں معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا کہ 12 سال سے زائد کمزور قوت مدافعت کے حامل افراد کے لیے مخصوص ویکسین لگانے کا عمل یکم ستمبر سے ہوگا اور مختص کردہ سینٹرز پر ہی یہ ویکسین لگائی جائے گی تاکہ ان کا ریکارڈ برقرار رکھا جا سکے۔

ڈاکٹر فیصل نے واضح کیا کہ بیرون ملک جانے والے مسافروں کے لیے مخصوص ویکسین کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے حکمت عملی تیار کرلی ہے جس کےتحت مسافر کو اس ملک کا ویزا پیش کرنا ہوگا اور ساتھ ہی ویکسین کی ادائیگی کرنی ہوگی۔

انہوں نے وضاحت کیا کہ ایسی ویکسین کی ادائیگی اس لیے ہے کہ کیونکہ یہ طبی بنیادوں پر نہیں ہے بلکہ لوجسٹک ضرورت کے تحت فراہم کی جائے گی۔