.

افغانستان میں امن و استحکام، پاکستان اورتاجکستان سمیت پورے خطے کیلئے اہمیت کا حامل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ افغانستان میں امن و استحکام، پاکستان اور تاجکستان سمیت پورے خطے کیلئے، اقتصادی تعاون بڑھانے اور روابط کے فروغ کے حوالے سے یکساں اہمیت کا حامل ہے۔یہ بات انہوں نے بدھ کو دوشنبے میں تاجکستان کے صدر امام علی رحمان سے ملاقات کے دوران کہی۔

دفتر خارجہ کے مطابق وزیر خارجہ نے تاجک صدر کو وزیراعظم عمران خان کی جانب سے نیک خواہشات کا پیغام دیا اور کہا کہ پاکستان اور تاجکستان کے مابین گہرے تاریخی برادرانہ تعلقات ہیں جو یکساں مذہبی، تہذیبی اور ثقافتی بنیاد پر استوار ہیں۔انہوں نے کہا کہ باعث مسرت بات یہ ہے کہ دونوں ممالک کی اعلیٰ قیادت، ان دو طرفہ مراسم کو مزید وسعت دینے اور مستحکم بنانے کیلئے پر عزم ہے۔

وزیر خارجہ نے تاجکستان کے ساتھ باہمی دلچسپی کے کثیرالجہتی شعبہ جات میں، دو طرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اعادہ اور تاجک صدر کو افغانستان کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے، پاکستان کے نقطہ ء نظر سے آگاہ کیا۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ افغانستان میں امن و استحکام، پاکستان اور تاجکستان سمیت پورے خطے کیلئے، اقتصادی تعاون بڑھانے اور روابط کے فروغ کے حوالے سے، یکساں اہمیت کا حامل ہے۔

وزیر خارجہ نے مشترکہ مقاصد کے حصول کیلئے، متفقہ لائحہ عمل اپنانے کی ضرورت پر زور دیا۔تاجک صدر امام علی رحمان نے وزیر خارجہ کو تاجکستان میں آمد پر خوش آمدید کہتے ہوئے، افغانستان کی صورتحال کے پیش نظر،مشترکہ مقاصد کے حصول کیلئے، مربوط نقطہ ء نظر اپنانے کی تجویز سے اتفاق کیا۔ تاجک صدر امام علی رحمان نے کہا کہ وہ ستمبر 2021 کو دوشنبے میں منعقد ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں، وزیر اعظم عمران خان کی شرکت کے منتظر ہیں۔