.

پاکستان کی سرحدیں محفوظ،مسلح افواج کسی بھی صورت حال سے نمٹنے کوتیار ہیں:آرمی چیف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمرجاوید باجوہ نے کہا ہے کہ ملک کو درپیش چیلنجوں کے باوجود ہماری سرحدیں محفوظ ہیں اور مسلح افواج کسی بھی صورت حال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔

وہ سوموارکوجنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) راول پنڈی میں پارلیمان کی کمیٹی برائے کشمیر، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے ارکان سے گفتگوکررہے ہیں۔جی ایچ کیو میں پارلیمان کی ان کمیٹیوں کو افغانستان کی تازہ صورت حال کے تناظر میں بریفنگ دی گئی ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (انٹرسروسزپبلک ریلیشنز) نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پارلیمنٹیرینز کا آرمی چیف کے ساتھ ’’مکمل انٹرایکٹو سیشن‘‘ہواہے اور انھیں ملکی سرحدوں پر سلامتی کی صورت حال کے ساتھ ساتھ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے پاک فوج کی کوششوں سے آگاہ کیا گیا ہے۔

بریفنگ کے دوران جنرل باجوہ نے کہا کہ ’’مسلح افواج نے قوم کی حمایت سے دہشت گردی کے خلاف جنگ اور پاکستان میں حالات معمول پرلانے میں بے مثال کامیابیاں حاصل کی ہیں۔‘‘

آرمی چیف نے بتایا کہ مغربی سرحدی علاقوں کےانتظام کے لیے مسلح افواج نے بروقت اقدامات کیے ہیں۔اس کی وجہ سے پاکستان کی سرحدیں درپیش چیلنجوں کے باوجود محفوظ ہیں۔

آرمی چیف نے جنوبی ایشیا کےخطے کی پائیدار ترقی کے لیے جنگ زدہ افغانستان میں امن کی بحالی کی اہمیت پر زوردیا۔انھوں نے کشمیرکاز اور بھارت کے زیر قبضہ متنازع ریاست جموں وکشمیر کے عوام کے لیے پاک فوج کی حمایت کا بھی اعادہ کیا۔انھوں نے کہا کہ دنیا کو معلوم ہونا چاہیے کہ مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کے بغیر خطے میں امن اور استحکام ایک خواب ہی رہے گا۔

آئی ایس پی آرکے بیان کے مطابق بریفنگ کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ پرتشدد انتہا پسندی کے خلاف قوم کی حمایت سے جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔

پڑوسی ملک افغانستان سے غیرملکی افواج کے انخلا،طالبان کے کنٹرول اور گذشتہ جمعرات کو کابل کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر سخت گیر جنگجو گروپ داعش کے دہشت گرد حملوں کے بعد فوجی قیادت کی جانب سے پارلیمنٹیرینز کو یہ پہلی سیکورٹی بریفنگ دی گئی ہے۔

قبل ازیں یکم جولائی کو پارلیمنٹ ہاؤس میں سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی رہنماؤں کو بھی اسی طرح کی بریفنگ دی گئی تھی ۔اس میں عسکری اورانٹیلی جنس قیادت نے قومی مفاد کے معاملات پر تقسیم کی سیاست سے گریز پرزوردیا تھا اور خبردارکیا تھا کہ بیرونی تزویراتی چیلنجوں کے ملک پراثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

اس بریفنگ سے ایک روز پہلے ہی اتوار کوافغانستان کی حدود سے پاکستان کے مختلف سرحدی علاقوں میں فائرنگ کی گئی تھی اورمسلح جنگجوؤں نے دھماکا خیزمواد سے حملے کیے تھے جس سے پاک فوج کے تین جوان اور دو شہری شہید ہوگئے تھے۔دہشت گردوں نے ضم شدہ ضلع باجوڑ میں ایک فوجی چوکی پر فائرنگ کی تھی،پاک فوج کے جوانوں نے اس کا فوری مسکت جواب دیا تھا۔انٹیلی جنس اطلاعات کے مطابق فائرنگ سے دو سے تین دہشت گرد ہلاک اور تین یاچارزخمی ہوگئے تھے۔