.

افغان حکومت کی تشکیل جلد متوقع ہے: شاہ محمود قریشی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ افغان حکومت جلد تشکیل دے دی جائے گی۔ افغانستان میں طالبان کے حکومت سنبھالنے کے بعد سے کئی ہفتوں تک حکومت کی تشکیل نہ ہونے کے باعث صورتحال بدستور غیر یقینی ہے۔

شاہ محمود قریشی نے اسلام آباد میں جرمنی کے وزیر خارجہ کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ" ہمیں امید ہے کہ افغانستان میں آنے والے دنوں کے دوران ایک قومی حکومت تشکیل پاجائے گی۔"

وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ افغانستان کو انسانی المیے سے بچانے کیلئے عالمی برادری کا تعاون ناگزیر ہے،عالمی برادری اس موقع پر افغانستان کو تنہا نہ چھوڑے اور ان کی معاشی معاونت کو جاری رکھا جائے۔منگل کو جرمن وزیر خارجہ ہائیکو ماس کے ہمراہ وزارت خارجہ میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ رواں سال جرمنی کے ساتھ ہمارے سفارتی تعلقات کو ستر سال مکمل ہونے جا رہے ہیں،اس موقع پر ہم ان 70سالہ سفارتی روابط کو بہترین انداز میں منانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

جرمنی یورپین یونین میں پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی حلیف ہے جبکہ پاکستان میں 35 جرمن کمپنیاں کامیابی کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔وزیر خارجہ نے کہا کہ دونوں ممالک کے مابین دو طرفہ تجارت بڑھانے اور قابلِ تجدید توانائی، تعمیرات،انفارمیشن ٹیکنالوجی، گاڑیوں کی صنعت، سمیت متعدد شعبوں میں تعاون بڑھانے کے وسیع مواقع موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ جرمنی سی پیک کے تحت، خصوصی اقتصادی زونز میں سرمایہ کاری کر سکتا ہے ،اس کے علاؤہ دفاعی شعبے میں پاکستان اور جرمنی کے درمیان بہترین تعلقات ہیں

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ دو طرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کیلئے ویزہ کے اجراء میں سہولت ، معاونت کا باعث ہو سکتی ہیں۔پاکستان کے حوالے سے ٹریول ایڈوائزی میں بہتری پر جرمن حکومت کے شکر گزار ہیں اور مزید درجہ بندی میں بہتری کے لیے پر امید ہیں، ہم جلد میونخ میں قونصل خانہ کھولنے جا رہے ہیں۔وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم نے افغانستان کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ میں نے جرمن ہم منصب سے کہا کہ وہ بذات خود حالات کا جائزہ لیں کہ کیا چیلنجز درپیش ہیں اور دیکھیں کہ کیا مواقع میسر ہیں اور افغانستان کو تنہا چھوڑنے کے کیا نقصانات ہو سکتے ہیں؟افغانستان کی تاریخ میں یہ ایک نازک موڑ ہے۔ عالمی برداری کو افغانستان کی معاشی معاونت کیلئے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے اور ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے، افغانوں کو تنہا نہ چھوڑا جائے کیونکہ افغانستان میں عدم استحکام کسی کے مفاد میں نہیں۔

پریس کانفرنس میں موجود جرمنی کے وزیر خارجہ ہیکو ماس کا کہنا تھا کہ جرمنی طالبان کی جانب سے نئی حکومت کے قیام کا انتظار کرے گا تاکہ ہمیں اندازہ ہو کہ وہ شہریوں کو پروازوں سے بیرون ملک سفر کے وعدے کی پاسداری کرتے ہیں یا نہیں۔

ماس کا کہنا تھا کہ "طالبان نے ہم سے وعدہ کیا ہے کہ مگر آنے والے دنوں اور ہفتوں میں ہمیں اندازہ ہوگا کہ وہ اپنے وعدوں کی پاسداری کرتے ہیں یا نہیں۔"

جرمنی کے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ "طالبان ایک نئی حکومت کا قیام عمل میں لانا چاہتے ہیں اور اس سے ہمیں معلوم ہوگا کہ نئی افغان حکومت میں تمام افغانوں کی نمائندگی کی گئی ہے یا نہیں۔"

وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم جرمنی کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کیلئے، مشترکہ کاوشیں جاری رکھنے کیلئے پر عزم ہیں۔ جرمن وزیر خارجہ نے اپنے ریمارکس میں کابل سے جرمن سمیت غیر ملکی شہریوں کو نکالنے میں اہم کردار ادا کرنے پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ جرمنی افغانستان کے پڑوسی ممالک کو افغان حالات کے اثرات کا مقابلہ کرنے میں تعاون کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا ملک چیلنجوں کا مقابلہ کرنے میں انہیں تنہا نہیں چھوڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ ہم پہلے ہی انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ایک سو ملین یورو فراہم کر چکے ہیں اور افغانستان کے پڑوسی ممالک میں مختلف منصوبوں کے لیے پانچ سو ملین یورو کا بھی وعدہ کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ جرمنی افغان مسئلے کے ساتھ ساتھ دوطرفہ تعلقات پر پاکستان کے ساتھ قریبی تعاون کر رہا ہے۔