.

بزرگ کشمیری حرّیت رہ نما سیّدعلی گیلانی کا انتقال،پاکستان میں ایک روزہ سوگ کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارت کے زیرانتظام متنازع ریاست مقبوضہ جموں وکشمیر میں بزرگ حرّیت پسند رہ نما سیّدعلی گیلانی بدھ کو سری نگر میں وفات پاگئے ہیں۔ وہ ایک عرصے سے علیل تھے اور اپنے گھرپر نظربند تھے۔ان کی عمر92 برس تھی۔

کل جماعتی حرّیت کانفرنس کے لیڈرعبدالحمید لون نے بتایا ہے کہ علی گیلانی بدھ کی رات دس بجے گھرہی میں وفات پاگئے ہیں۔خبررساں ایجنسی ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق بھارتی فوج اور پولیس نے سیّد علی شاہ گیلانی کی وفات کی خبرملتے ہی ان کے گھر کو جانے والے تمام راستے بند کر دیے ہیں،ان کے جسدِخاکی کو تحویل میں لے لیا ہے اورریاست کے صدر مقام سری نگر سمیت بعض شہروں اور علاقوں میں کرفیونافذ کردیا ہے۔

بھارتی انتظامیہ نے سید علی گیلانی کو گذشتہ12 سال سے سری نگر میں نظربند کر رکھا تھا۔علاج ومعالجے کی سہولت کی عدم دستیابی کی وجہ سے ان کی صحت بگڑچکی تھی اوروہ علیل چلے آرہے تھے۔

سیّدعلی گیلانی نے متنازع ریاست جموں وکشمیر کو بھارتی تسلط سےآزاد کرانے کی جدوجہد میں قائدانہ کردارادا کیا تھا۔وہ سات دہائیوں تک کشمیرکی تحریک حریت میں سرگرم رہے تھے۔اس کی پاداش میں انھیں کم سے کم 20برس تک بھارت اورکشمیر کی جیلوں میں قید یا نظربند رکھا گیا۔

وہ مقبوضہ کشمیر کے ضلع بانڈی پورہ میں 27 ستمبر1929ء کو پیدا ہوئے تھے۔انھوں نے ابتدائی تعلیم سوپورسے حاصل کی اور جامعہ پنجاب لاہور کےاورینٹل کالج سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی تھی۔انھوں نے ریاست جموں وکشمیر میں اپنی سیاسی زندگی کا آغاز 1950ء کی دہائی میں کیا اور انھیں پہلی بار 1962میں گرفتار کرکے پابند سلاسل کردیا گیا۔

وہ جماعت اسلامی مقبوضہ جموں وکشمیرکے سرکردہ رہنما تھے اور کئی مرتبہ اس جماعت کے امیر اور سیکرٹری جنرل رہے تھے۔اس کے علاوہ وہ کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین بھی رہے تھے۔انھوں نے تحریک آزادی کو زورشور سے آگے بڑھانے کے لیے 2003ء میں اپنی الگ تنظیم ’تحریک حریت جموں وکشمیر‘کی بنیاد رکھی تھی۔ وہ ریاست جموں وکشمیر کی بھارت سے آزادی اوراس کا پاکستان سے الحاق چاہتے تھے۔

سیّدعلی گیلانی اپنے سیاسی سفر کے دوران میں متعدد مرتبہ ریاست جموں وکشمیر کی قانون سازاسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے۔1990ء کے اوائل میں جب کشمیری نوجوانوں نے بھارتی قبضے کے خلاف مسلح مزاحمت شروع کی تووہ اسمبلی کی رکنیت سے مستعفی ہوگئے تھے۔

وہ گذشتہ کئی ماہ سے عارضہ قلب میں مبتلا تھے۔2007ء میں ان کے گردوں میں کینسر کی تشخیص ہوئی تھی۔ زندگی کے آخری ایام میں انھیں سانس کی دشواری کابھی سامنا تھا۔اس طویل علالت کے بعد اپنے خالق حقیقی سے جاملے ہیں۔

ان کےانتقال پرریاست کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے تعزیت کا اظہارکرتے ہوئے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’’مرحوم ہمیشہ اپنے اصولوں پرکاربند رہے۔ میں نے سیاسی اختلاف کے باوجود سیّدعلی گیلانی کی ہمیشہ عزت کی۔‘‘مقبوضہ کشمیر کے دوسرے حرّیت رہ نماؤں نے بھی ان کی وفات پر تعزیت کا اظہار کیا ہے۔

پاکستان میں یومِ سوگ

سیدعلی گیلانی کی وفات پرحکومت نے پاکستان میں ایک دن کا سوگ منانے کا اعلان کیا ہے۔وزیراعظم عمران خان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ انھیں بزرگ حریت رہ نما کی وفات کی خبرسن کر گہرا صدمہ پہنچا ہے۔

انھوں نے کہا کہ مرحوم نے کشمیری عوام کوحق خودارادیت دلانے کے لیے پوری زندگی دلیرانہ جدوجہد کی۔انھیں قابض بھارتی حکام نے جبروتشدد کا نشانہ بنایا لیکن وہ پوری زندگی آہنی عزم کے ساتھ کشمیر کی آزادی کے لیے جدوجہد کرتے رہے تھے۔

وزیراعظم نے اعلان کیا کہ سیّد علی گیلانی کی وفات پرجمعرات کو پاکستان کا قومی پرچم سرنگوں رہے گا اورسرکاری طورپر ایک روزہ سوگ منایاجائے گا۔

واضح رہے کہ صدرپاکستان ڈاکٹرعارف علوی نے گذشتہ سال سیدعلی گیلانی کو کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے حصول کے لیے عشروں پرمحیط طویل جدوجہد کے اعتراف میں ملک کے سب سے اعلیٰ سول ایوارڈ نشان امتیاز سے نوازا تھا۔

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے ان کی وفات پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کشمیرکی آزادی کی تحریک میں مشعل بردارکا کردار ادا کرتے رہے تھے۔انھوں نے آخری سانس تک کشمیریوں کے حقوق کی جنگ لڑی۔اللہ ان کی مغفرت فرمائے اور کشمیر کی آزادی کے لیے ان کا خواب جلد شرمندۂ تعبیر ہو۔