.

دشمن کے ناپاک عزائم کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے: آرمی چیف

پاکستانی افغان بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں،افغانستان میں ایک مستحکم اورنمایندہ حکومت کے خواہاں ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمرجاوید باجوہ نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات میں تنازع کشمیر ایک بنیادی مسئلہ ہے،ہم ریاست جموں وکشمیر کے بارے میں بھارت کے 5 اگست 2019ء کے اقدام کو مسترد کرتے ہیں۔ ہم ہرحالت میں اپنے ملک کا دفاع کرنا جانتے ہیں اوراس کے لیے ہر قیمت ادا کرنے کو تیار ہیں۔

وہ سوموار کو جنرل ہیڈکوراٹرز، راولپنڈی میں یوم شہداء و دفاع پاکستان کی مناسبت سے منعقدہ تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ جنرل قمرجاوید باجوہ نےکہاکہ ہمارے بزرگوں نے اپنی قربانیوں سے آزادی کی جو شمع جلائی تھی،اسے ابتدائی سے ہی کڑے امتحانوں کا سامنا کرنا پڑا۔1948ء کی جنگ یا 1971ء کی لڑائی ،معرکہ کارگل یا دہشت گردی کے خلاف طویل اور صبرآزما جنگ، ہر آزمائش میں مسلح افواج نے ثابت کیا ہے کہ وہ ہر حالت میں اپنے ملک کا دفاع کرنا جانتی ہیں اوراس کے لیےہر قیمت ادا کرنے کو تیار ہیں۔

آرمی چیف نے کہاکہ وطن عزیزکے دفاع میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ آج کی تقریب کا مقصد اسی عہد کی تجدید ہے کہ ہم اپنے شہیدوں کو کبھی نہیں بھولے اور ان کے ورثا کی نگہبانی ہماری ذمہ داری ہے۔اس عظیم ملک کی سلامتی اور امن ہمیں ہرحال میں مقدم ہے۔ہماری وطن سے محبت تمام داخلی گروہی ،لسانی، نسلی تعصبات سے بالاتر ہے۔پاکستان کی حفاظت اورامن وترقی کے جاری سفر میں ہم کسی قربانی سے بھی دریغ نہیں کریں گے۔

انھوں نے کہا افواج پاکستان کسی بھی قسم کے اندرونی و بیرونی خطرات ، روایتی وغیرروایتی جنگ اور ظاہری اور پیچیدہ دشمنوں سے لڑنے کے لیے تمام صلاحیتوں سے لیس ہے،اگرکوئی دشمن ہمیں آزمانا چاہتا ہے تو وہ ہر لمحہ اور ہر محاذ پر ہمیں تیار پائے گا۔الحمدللہ آج ہمارا شمار دنیا کی بہترین افواج میں ہوتا ہے۔ہم نے ہردشمن کا ڈٹ کر مقابلہ کیا،تمام اندرونی و بیرونی سازشوں کو ناکام بنایا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ دفاعی قوت میں خودانحصاری حاصل کرکے ملک کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنایا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاک فوج اور قوم کے درمیان رشتہ وہ مضبوط ڈھال ہے جس سے پاکستان کے خلاف دشمن کی تمام چالوں اور ہتھکنڈوں کو ہمیشہ ناکام بنایا گیا ہے اور اسی یک جہتی نے ہمیں ہمیشہ ہرمشکل میں سرخرو کیا ہے۔ یہ امر قابل ذکرہے کہ عوام کے تعاون کے بغیرکوئی بھی فوج ریت کی دیوارثابت ہوتی ہے۔جیسا کہ ہم نے اپنے ہمسایہ ملک میں دیکھا۔اس لیے فوج کی کامیابی بڑی حد تک عوام کی حمایت کی مرہون منت ہوتی ہے۔

انھوں نے مزید کہا:’’ہمیں اس حقیقت کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا کہ موجودہ دورمیں جنگوں کی نوعیت بدل چکی ہے اب براہ راست حملے کے بجائے کسی قوم کی یک جہتی اور نظریاتی سرحدوں کو کمزورکیا جاتا ہے اور شہریوں کے حوصلے پست کیے جاتے ہیں۔اس مقصد کے لیے دیگر حربوں کے علاوہ جدید ٹیکنالوجی اور مواصلات کے ذرائع کواستعمال کیا جاتا ہے۔ ہمارے دشمن بھی غیرروایتی ہتھکنڈوں بشمول پروپیگنڈا اور ڈس انفارمیشن کے ذریعے اپنے مذموم مقاصد حاصل کرناچاہتے ہیں۔‘‘

جنرل باجوہ کا کہنا تھا کہ ’’بیرونی دشمنوں کے تمام حربوں اور چالوں سے تو ہم بخوبی آگاہ ہیں مگر ہمیں اندرونی ملک انتشار پھیلانے والے کچھ عناصر کے ساتھ سختی سے نمٹنا ہوگا۔ ہم سب کے لیے لمحہ فکریہ ہے کہ کچھ لوگ ملک دشمن عناصر کے ہاتھ میں استعمال ہورہے ہیں۔اس کو عرف عام میں ہائی برڈ یا ’ففتھ جنریشن وار‘ کہا جاتا ہے، اس کا مقصد پاکستان کی جڑوں کو کھوکھلا کرنا اور ملک کی سالمیت کو نقصان پہنچانا ہے۔ ہم ان شاء اللہ ان مذموم عزائم کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ایسی مشکل اور پیچیدہ صورت حال افواج پاکستان اور قوم کی باہمی اعتماد اور اخوت اور محبت کے رشتے مزید مضبوط بنانے کی متقاضی ہے۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ تنقیدبرائے تنقید، نفرت اورعدم برداشت جیسے منفی رویوں کی حوصلہ شکنی کرنا ہوگی۔ اگر پاکستان نے ترقی کرناہے تو ہمیں اپنی انا اور ذاتی مفاد کو پس پشت ڈالنا ہوگا۔اس جذبے اورایثار کی مثال ہمارے شہداء ہیں۔ہمیں ان سے سبق سیکھ کرآگے بڑھنا ہے۔اکیسویں صدی میں ہمیں ایک دوسرے کےخلاف منفی سوچ کے بجائے عوام کی ترقی،خوشحالی اورعلاقائی تعاون کے فروغ کے لیے کام کرنا ہوگا۔ اب تعلیم ،صحت اورانفراسٹرکچر کی ترقی ہماری ترجیحات ہونی چاہییں۔

انھوں نے بتایاکہ ہم خطے کی صورت حال پرگہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔خاص طورپر افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلاء کے بعد کی صورت حال جہاں ایک طرف امن واستحکام کاایک موقع فراہم کرتی ہے، وہیں یہ مزید خطرات اور مشکلات کا پیش خیمہ بھی ثابت ہوسکتی ہیں۔ ہم افغانستان کے برادرعوام کی سلامتی و ترقی کے خواہش مند ہیں اور یہ توقع رکھتے ہیں کہ اقوام متحدہ سمیت خطے اور دنیا کی بڑی طاقتیں افغانستان میں پائیدارامن کے لیےاپنا مثبت کردارادا کریں گی۔

انھوں نے کہا:’’ہم یہ توقع کرتے ہیں کہ افغانستان میں ایک وسیع البنیاد ،مستحکم اور تمام فریقوں کی نمائندہ حکومت قائم ہوگی۔وہاں انسانی حقوق بشمول خواتین کے حقوق کا احترام کیا جائے۔افغان سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال نہ ہو۔ہم یہ بھی امید کرتے ہیں،دنیا اس مشکل گھڑی میں افغان قوم کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور نہ کسی انسانی بحران کا شکار ہونے دے گی۔ اس سلسلے میں پاکستان دنیا کے ہر ملک سے تعاون کرنے کوتیار ہے۔‘‘

جی ایچ کیو میں منعقدہ تقریب میں صدرمملکت عارف علوی، چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی،قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف،بعض وفاقی وزراء اور اعلیٰ سول اور عسکری قیادت نے شرکت کی۔تقریب میں تینوں مسلح افواج کے سربراہان، شہدا، غازیوں اور حاضر سروس اور ریٹائرڈ اعلیٰ افسر اوران کے اہل خانہ بھی شریک بھی تھے۔