.

پاکستان میں 50 فیصد حاضری کے ساتھ تعلیمی ادارے کھولنے کا اعلان

تعلیمی ادارے 16 ستمبر بروز جمعرات سے کھلیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

حکومت پاکستان نے 16 ستمبر سے 50 فیصد حاضری کے ساتھ تعلیمی ادارے کھولنے کا اعلان کر دیا۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی وسربراہ این سی او سی (نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر) اسد عمر کے مطابق کرونا کی چوتھی لہر کی شدت میں بتدریج کمی آ رہی ہے۔ پچاس 50 فیصد مسافروں کے ساتھ پبلک ٹرانسپورٹ کھولنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ جمعرات سے تعلیمی ادارے بھی کھول دیئے جائیں گے۔

اسلام آباد میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسد عمر نے کہا کہ 24 میں سے 18 اضلاع میں کرونا صورتحال میں بہتری آئی ہے۔ چھ 6 اضلاع میں 22 ستمبر تک بندشیں قائم رہیں گی۔ ان اضلاع میں لاہور، فیصل آباد، ملتان، سرگودھا، گجرات اور بنوں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارک اور جم مکمل ویکسینیٹڈ افراد کیلئے کھول دیئے جائیں گے۔ آؤٹ ڈور ڈائننگ کا ٹائم رات 12 بجے تک کر دیا گیا۔

اسد عمر کا کہنا تھا کہ مکمل ڈوز ویکسین نہ لگوانے پر 30 ستمبر کے بعد مختلف مقامات پر داخلے اور سرگرمیوں پر پابندی ہوگی۔ کاروبار پر بندشیں نہیں لگا رہے مگر جن لوگوں نے ویکسین نہیں لگوائی ان پر بندشیں لگائی جائیں گی۔ عوام کرونا کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے ویکسین لگوائیں۔ حکومت 200 ارب روپے مالیت کی ویکسین فراہم کر رہی ہے۔ لوگوں کی آسانی کیلئے ویکسی نیشن کا عمل تیز کیا جائے۔

اسلام آباد کی 52 فیصد آبادی ویکسین لگوا چکی ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ کرونا کی صورتحال بہتر ہو اور زندگی معمول پر آئے۔

وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ اسپتالوں میں انتہائی نگہداشت کرونا مریضوں کا دباؤ ہے۔ کوشش ہے آکسیجن کی فراہمی میں رکاوٹ نہ آئے۔ چند ہفتے کےدوران آکسیجن کی طلب میں اضافہ ہوا۔ کرونا صورتحال بہتر ہوئی ہے مگر خطرہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ 5300 مریض اسپتالوں میں آکسیجن پر ہیں۔ لاپرواہی، ایس او پیز کو نظرانداز کرنا کرونا کیسز میں اضافے کا باعث بنا۔