.

’’داعش کو تربیت بھارت میں موجود کیمپوں میں دی جا رہی ہے‘‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر ڈاکٹر معید یوسف نے الزام عاید کیا ہے کہ پاکستان ۔ چین اقتصادی راہداری کو نقصان پہنچانے پر مامور ایک سیل بھارتی وزیراعظم سیکریٹریٹ میں کام کر رہا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ بھارت کے اندر داعش کے تربیتی کیمپ موجود ہیں جہاں پاکستانی مفادات کو نشانہ بنانے کی ٹریننگ دی جاتی ہے۔

ڈاکٹر معید یوسف نےان خیالات کا اظہار بدھ کی شام اسلام آباد میں بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو خصوصی بریفنگ دیتے ہوئے کیا۔ بریفنگ کا اہتمام ایکسٹرنل پبلیسٹی ونگ پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ نے کیا تھا۔

بریفنگ کے دوران ڈاکٹر معید یوسف نے کہا کہ بھارت، افغانستان کی صورتحال کو پاکستان سے جوڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ’بھارتی بیانیے میں ایک واضح رجحان نظر آ رہا ہے کہ جب بھی وہ کشمیر میں پھنستے ہیں یا عالمی نظریں ان پر ہوتی ہیں تو دہشت گردی کے حوالے سے بات چیت شروع ہو جاتی ہے کیونکہ وہ کشمیر کی آزادی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی سے بات ہٹا کر دہشت گردی کو موضوع بنانا چاہتا ہے اور بدقسمتی سے دنیا ان کی بات کا یقین کر کے اصل مسئلے سے نظر ہٹا لیتی ہے۔‘

 معید یوسف بین الاقوامی میڈیا کو بریف کر رہے ہیں: فوٹو العربیہ اردو
معید یوسف بین الاقوامی میڈیا کو بریف کر رہے ہیں: فوٹو العربیہ اردو

انہوں نے مزید کہا کہ ’اگر دنیا نے دوبارہ (داعش کے مبینہ تربیتی کیمپوں) کے معاملے سے نظر ہٹائی تو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اس سے بھارت کو مزید شے ملے گی اور وہ اس ’بوگی‘ (پراکسی) کو بنائے گا اور خطے میں عدم استحکام پیدا کرے گا۔‘
’ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ بھارت نے کشمیر میں کیمیائی ہتھیار استعمال کیے ہیں مگر تصاویر میں شواہد کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے ملتے جلتے ہیں۔ اس معاملے پر بین الاقوامی تحقیقات کی ضرورت ہے۔ کم از کم نگران اداروں کو کشمیر جانے کی اجازت دی جائے تاکہ وہ خود وہاں جا کر دیکھیں۔۔۔۔ اگر ایسا ہی ہے تو بین الاقوامی قوانین کا اطلاق کیا جانا چاہیے۔‘

بھارتی سرگرمیوں ثبوت تقسیم

وفاقی دارلحکومت میں ہونے والی اس بریفنگ کے دوران صحافیوں میں ڈوزیئر بھی تقسیم کیے گئے جس میں داعش کے پانچ مبینہ کیمپوں کے جی پی ایس کوآرڈینٹس دیے گئے ہیں۔

ان میں سے تین کیمپ مبینہ طور پر راجستھان، اتراکھنڈ اور بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے گلمرگ میں موجود ہیں۔ ڈوزیئر کے مطابق ’بھارتی انٹیلی جنس ایجنسیز داعش جنگجوؤں کی تربیت میں شامل ہیں اور حکومت پاکستان کے پاس اس کے شواہد موجود ہیں۔‘

بریفنگ ویڈیو سکرین گریب: العربیہ اردو
بریفنگ ویڈیو سکرین گریب: العربیہ اردو

ڈوزیئر کے مطابق ’بھارت ان جنگجوؤں کو کشمیر کی آزادی کی مہم کی صف میں شامل کر کے اس جدوجہد کو دہشت گردی کے طور پر دکھانا چاہتا ہے اور اس کے ذریعے کشمیر میں اپنے جنگی جرائم کی صفائی دینا چاہتا ہے۔‘

’افغانستان میں بھارتی ’منصوبوں‘ کے حوالے سے معید یوسف کا کہنا تھا کہ ’بھارت کے افغانستان میں منصوبے پاکستان کو ہدف بنانے کے لیے تھے کیوں کہ زیادہ تر پاکستانی سرحد سے متصل علاقوں میں تھے۔‘

افغانستان دوراہے پر

بھارت کے علاوہ معید یوسف نے افغانستان کے بارے میں پاکستانی بیانیے پر تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان جنگ کا ممکنہ طور پر واحد اتحادی تھا جس کی سرزمین پر بمباری کی گئی۔

قومی سلامتی کے مشیر کا کہنا تھا کہ افغانستان دوراہے پر کھڑا ہے۔ افغانستان کو جیسے 90 کی دہائی میں تنہا چھوڑا گیا اگر اب بھی ایسا کیا گیا تو سکیورٹی خلا پیدا ہو جائے گا۔ افغانستان میں داعش، القاعدہ اور پاکستانی طالبان موجود ہیں۔ یہ گروہ پاکستان اور مغرب کے دشمن ہیں۔

نئی افغان حکومت کی امداد کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ’ان کے ساتھ دنیا کو ’انگیج‘ کرنا ہو گا۔ دوحہ مذاکرات اور اپنے شہریوں کے انخلا کے لیے بھی مختلف ممالک نے طالبان کے ساتھ انگیج کیا تھا۔‘

مشیر قومی سلامتی میڈیا کے سوالوں کا جواب دے رہیں: فوٹو العربیہ اردو
مشیر قومی سلامتی میڈیا کے سوالوں کا جواب دے رہیں: فوٹو العربیہ اردو

طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا ’یہ مغربی دنیا ہے جسے طالبان کو تسلیم کرنا ہے، کوئی بھی ہماری طرف نہیں دیکھ رہا۔ جو ممالک وہاں 20 سال سے موجود تھے انہیں فیصلہ کرنا ہے کہ انہیں اس (طالبان حکومت) سے بات کرنا ہے یا نہیں۔‘

پاکستان کے ساتھ تعلقات سے متعلق امریکی سکریٹری خارجہ بلینکن کے حالیہ بیان کے حوالے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے معید یوسف نے کہا کہ ’ایک فطری جائزے کی ضرورت ہے اور اس جائزے کا حصول یہ ہونا چاہیے کہ پاکستان اور امریکہ کا ایک وسیع تعلق ہونا چاہیے جس میں تمام عوامل شامل ہوں اور پاکستان کو کسی تیسرے ملک (بھارت، افغانستان یا چین وغیرہ) کے تناظر سے نہ دیکھا جائے۔‘

جنوبی وزیرستان میں مشتبہ دہشت گردوں سے جھڑپ میں بدھ کے روز 7 فوجیوں کی شہادت سے متعلق سوال کے جواب میں معید یوسف کا کہنا تھا کہ ’یہ حملے غیر یقینی صورت حال کی وجہ سے ہو رہے ہیں جس سے دہشت گرد فائدہ اٹھا رہے ہیں۔