.

منجمد اثاثے بحال کر کے افغانستان کو انسانی بحران سے بچایا جا سکتا ہے: پاکستان

دنیا کو طالبان حکومت تسلیم کرنے کی عجلت نہیں: شاہ محمود قریشی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے عالمی طاقتوں پر زور دیا کہ افغانستان کو ممکنہ انسانی بحران سے بچانے کے لیے کابل کے منجمد اثاثوں کو فوراً بحال کیا جانا چاہئے۔’’دنیا کا کوئی بھی ملک کو طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کی عجلت میں نہیں ہے۔‘‘

شاہ محمود قریشی پیر کے روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک پہنچنے پر نامہ نگاروں سے گفتگو کر رہے تھے۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ افغانستان کے نئے طالبان حکمرانوں کو یہ بات سمجھنی ہو گی کہ اگر وہ عالمی قبولیت اور جنگ سے تباہ حال ملک کی تعمیر نو کے لیے مالی امداد چاہتے ہیں تو انہیں ”بین الاقوامی رائے عامہ اور اصول و ضوابط کے تئیں زیادہ حساس اور جوابدہ ہونا پڑے گا۔"

ایک سوال کے جواب میں شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ عالمی برادری طالبان حکومت کو تسلیم کرنے سے پہلے اس بات کا مشاہدہ کر رہی ہے کہ افغانستان میں حالات کیا رخ اختیار کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا،”میں نہیں سمجھتا کہ فی الحال طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کی کسی کو جلد بازی ہے۔"

منجمد اثاثوں کی بحالی

پاکستانی وزیر خارجہ نے امریکا اور دیگر ملکوں سے اپیل کی کہ وہ سابقہ افغان حکومتوں کی جانب سے ان کے یہاں رکھے ہوئے منجمد اثاثوں کو جاری کردیں کیونکہ”یہ افغان عوام کا اثاثہ ہے اور اسے افغان عوام پر خرچ کیا جانا چاہئے۔"

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ افغانستان کو مزید سنگین اقتصادی اور انسانی بحران سے بچانے کے لیے غیر ملکی بینکوں میں منجمداثاثوں کو فوراً جاری کیا جانا انتہائی ضروری ہے۔

انہوں نے کہا،” ایک طرف تو آپ اس بحران کو ٹالنے کے لیے نئے فنڈ جمع کر رہے ہیں اور دوسری طرف ان کے جو اپنے اثاثے ہیں، اسے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے رہے ہیں۔“ انہوں نے مزید کہا،”میں سمجھتا ہوں کہ اثاثوں کو منجمد کرنے سے صورت حال کو بہتر بنانے میں کوئی مدد نہیں ملے گی۔ میں عالمی طاقتوں سے پرزور اپیل کروں گا کہ انہیں اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرنی چاہئے اور اثاثوں کو بحال کرنے کے بارے میں سوچنا چاہئے۔“

انہوں نے کہا کہ اگر عالمی طاقتیں ایسا کرتی ہیں تو اس سے اعتماد سازی میں مدد ملے گی اس کے ساتھ ہی طالبان میں 'مثبت رویے کو تقویت دینے" میں بھی مدد ملے گی۔

خیال رہے کہ امریکا نے افغانستان سنٹرل بینک کے 9.5 ارب ڈالر اثاثوں کو منجمد کردیا ہے اور عالمی رہنماوں کا کہنا ہے کہ اگر یہ اثاثے جاری کردیے جائیں گے تو طالبان ان کا استعمال کر سکتے ہیں۔

مثبت اشارے

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان چاہتا ہے کہ افغانستان میں امن اور استحکام قائم ہو اور اس کے حصول کے لیے”ہم افغانوں کو مشورہ دینا چاہیں گے کہ انہیں ایک شمولیتی حکومت قائم کرنی چاہئے۔" انہوں نے مزید کہا کہ طالبان رہنماوں کے ابتدائی بیانات اس آئیڈیا کے برخلاف نہیں ہے۔ اس لیے آگے ”ہم دیکھتے ہیں۔“

شاہ محمود قریشی نے امید ظاہر کی کہ طالبان اپنے وعدوں کو پورا کریں گے۔”وہ لڑکیوں اور خواتین کو اسکول، کالج اور یونیورسٹی جانے کی اجازت دیں گے۔" ان کا کہنا تھا کہ وہ طالبان کی جانب سے ”مثبت“ اقدامات دیکھ رہے ہیں، جس میں معافی کا اعلان اور اکثریتی پشتونوں کے علاوہ دیگر نسلی گروپوں کو شامل کرنے کی خواہش کا اظہار شامل ہے۔ انہوں نے کہا،”اس رجحان کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہئے۔