.

محسن پاکستان ڈاکٹرعبدالقدیرخان سرکاری اعزاز کے ساتھ سپردِخاک

نمازِجنازہ پروفیسر ڈاکٹرمحمدالغزالی نے پڑھائی ،مرحوم کا جسدِ خاکی قومی پرچم میں لپٹا ہوا تھا،مسلح افواج اورپولیس کے دستوں کی سلامی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خالق ممتاز جوہری سائنس دان ڈاکٹرعبدالقدیرخان کو اتوار کی شام اسلام آباد کے سیکٹر ایچ۔8 میں واقع قبرستان میں پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ سپردخاک کردیا گیا ہے۔ان کے جسد خاکی کی تدفین سے قبل گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔مسلح افواج اور پولیس کے دستوں نے سلامی پیش کی۔

اس سے قبل مرحوم ڈاکٹرعبدالقدیرخان کی خواہش کے مطابق ان کی نمازجنازہ اسلام آباد کی فیصل مسجد میں ادا کی گئی۔نماز جنازہ پروفیسرڈاکٹرمحمد الغزالی نے پڑھائی۔اس موقع پر سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے۔

نمازِ جنازہ میں قائم مقام صدر چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی ،بعض وفاقی وزرا اور پارلیمان کے ارکان سمیت سیاسی و عسکری قیادت نے بھی شرکت کی۔ نمازجنازہ کے موقع پرعوام کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔اس اسلام آباد میں موسلادھاربارش کی وجہ سے عوام کوفیصل مسجد تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اس کے باوجود لوگوں کی بڑی تعداد اپنے قومی ہیرو کو الوداع کہنے کے لیے موجود تھے۔سکیورٹی اداروں نے سخت حفاظتی انتظامات کیےتھے۔

ڈاکٹرعبدالقدیرخان کے جسدِ خاکی کو قومی پرچم میں لپیٹا گیا اور تدفین سے قبل انھیں پاک فوج کے دستے نے سلامی پیش کی۔حکومت نے قومی ہیرو کی سرکاری اعزاز کے ساتھ تدفین اور اس موقع پر قومی پرچم سرنگوں رکھنے کااعلان کیا ۔

مرحوم کچھ عرصہ پہلے کرونا وائرس میں مبتلا ہوئے تھے، انھیں اتوار کی صبح طبیعت بگڑنے پر اسپتال منتقل کیا گیا لیکن وہ وہاں اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔ وہ سنہ 2006ءسے کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا تھے۔وفات کے وقت ان کی عمر 85 برس تھی۔

پاکستان کو جوہری طاقت بنانے میں انھوں نے مرکزی کردار ادا کیا تھا اور انھیں بجا طور پاکستان کے جوہری بم کا خالق سمجھا جاتا تھا۔مرحوم ڈاکٹرعبدالقدیرخان نے پسماندگان میں بیوہ اور 2 بیٹیاں سوگوار چھوڑی ہیں۔

حالاتِ زندگی

ڈاکٹرعبدالقدیر خان یکم اپریل 1936ء کومتحدہ ہندوستان کے شہر بھوپال میں پیدا ہوئے تھے۔ان کا تعلق یوسفزئی پٹھان قبیلے سے تھا۔ان کا خاندان تقسیم ہند کے بعد 1952ء میں بھوپال سے ہجرت کرکے کراچی منتقل ہوگیا تھا۔آپ کے والد عبدالغفور ایک اسکول ٹیچر تھے۔وہ وزارتِ تعلیم میں بھی خدمات انجام دے چکے تھے۔ان کی والدہ زلیخہ ایک گھریلو اور مذہب سے لگاؤ رکھنے والی خاتون تھیں۔

نوجوان قدیرخان نے بیس سال کی عمر میں 1956ءمیں جامعہ کراچی سے فزکس میں بیچلرزآف سائنس کی ڈگری حاصل کی، پھر اعلیٰ تعلیم کے لیے یورپ چلے گئے۔انھوں نے1967ء میں ہالینڈ کی ڈیلفٹ یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی سے میٹریلز ٹیکنالوجی میں ماسٹرآف سائنس کی ڈگری حاصل کی۔ 1972 میں بیلجیئم کی یونیورسٹی آف لیون سے اکیڈمک، دھات کاری، نظری طبیعیات میں ڈاکٹریٹ آف انجینئرنگ کی سند حاصل کی تھی۔

انھوں نے 31مئی 1976 کو اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقارعلی بھٹو کی دعوت پرانجینئرنگ ریسرچ لیبارٹریز میں پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے پر کام شروع کیا اور 1984 میں جوہری ڈیوائس بنانے میں کامیاب ہوگئے۔بعدازاں صدر ضیاءالحق نے اس ریسرچ سنٹر کا نام تبدیل کرکے ڈاکٹر اے کیو خان ریسرچ لیبارٹریزکردیا تھا۔

محسن پاکستان نے 8 سال کی قلیل مدت میں ایٹمی پلانٹ نصب کرکے ساری دنیا کو حیرت زدہ کردیا تھا اور دنیا کی حیرت میں مزید اضافہ اس وقت ہوا جب28مئی 1998 کو وزیراعظم نواز شریف کی اجازت سے بلوچستان کے ضلع چاغی میں6 کامیاب ایٹمی تجربات کیے۔پاکستان میں یورینیم کی افزودگی میں نمایاں مقام رکھنے والے اے کیو خان ریسرچ سنٹر نے ڈاکٹرعبدالقدیر خان کی زیر نگرانی غوری میزائل سمیت کئی چھوٹے بڑے جنگی آلات سے پاک فوج کو لیس کیا ہے۔

جوہری ٹیکنالوجی کے شعبے میں ان کی خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے انھیں 1989 میں ہلال امتیاز سے نوازا تھا۔آپ واحد پاکستانی شہری ہیں جنھیں دو مرتبہ پاکستان کے سب سے بڑے سول اعزاز نشان امتیاز سے نوازا گیا، پہلی مرتبہ 1996 میں صدر پاکستان فاروق احمد خان لغاری نے ڈاکٹر قدیرخان کو نشان امتیاز عطا کیا۔دوسری مرتبہ انھیں 1999 میں نشان امتیاز سے نوازا گیا۔

ڈاکٹرعبدالقدیر خان یکم جنوری 2001 سے 31 جنوری 2004 تک صدر پاکستان جنرل پرویزمشرف کے مشیر برائے سائنسی پالیسی رہے۔اس دوران میں سکیورٹی حکام نے ایٹمی ٹیکنالوجی اور معلومات ایران اور لیبیاکو فراہم کرنے کے حوالے سے تحقیقات کی تھی۔وہ 2004ء سے اپنی وفات تک اپنے گھرہی پر نظربند رہے تھے۔

ڈاکٹرقدیرخان کومختلف اوقات میں 13 طلائی تمغوں سے نوازا گیا۔انھوں نے 150 سے زیادہ سائنسی تحقیقی مضامین تحریر کیے۔1993 میں کراچی یونیورسٹی نے انھیں ڈاکٹر آف سائنس کی اعزازی ڈگری دی تھی۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ساشے کے نام سے ایک غیرسرکاری تنظیم بھی قائم کی تھی جو تعلیمی اور دیگر فلاحی کاموں میں سرگرم عمل ہے۔

2012 میں انھوں نے تحریکِ تحفظ پاکستان کے نام سے ایک سیاسی جماعت بھی الیکشن کمیشن آف پاکستان میں رجسٹر کروائی تھی۔اس تحریک کا مرکزی دفتراسلام آباد میں تھا اور اس پارٹی نے 2013 کے میزائل کے انتخابی نشان پر عام انتخابات میں حصہ بھی لیا ۔تاہم ستمبر 2013میں ڈاکٹر عبدالقدیر نے اس جماعت کو ختم کردیا۔

انھوں نے ہالینڈ میں قیام کے دوران 1964میں ہینی نامی خاتون سے شادی کی جو بعدازاں ہینی خان کے نام سے جانی گئیں۔ہینی خان سے ان کی دو بیٹیاں ہیں، بڑی بیٹی ڈاکٹر دینا خان اور چھوٹی صاحبزادی کا نام عائشہ خان ہیں۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو ہالینڈ میں قیام کے دوران میں ایٹمی معلومات چوری کرنے کے الزامات میں مقدمے کا سامنا بھی کرنا پڑا تھا۔ہالینڈ کی عدالت یہ مقدمہ ہالینڈ، جرمنی، بیلجیئم اور برطانیہ کے پروفیسرز کے الزامات کا جائزہ لینے کے بعد ختم کردیا تھا اور ڈاکٹرصاحب کو بری کردیا تھا۔