.

پاکستان اور سعودی عرب کی مشترکہ بحری مشقوں ’نسیم البحر کا اختتام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان اور سعودی عرب کی مشترکہ بحری مشقیں ’نسیم البحر 13 ‘ سنیچر کو ختم ہو گئیں۔ بحری مشقوں میں پہلی بار سعودی شاہی فضائیہ کے یونٹ نے بھی شرکت کی ہے۔

سعودی خبر رساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق بحیرہ عرب میں ہونے والی مشقیں برادرانہ و تاریخی تعلقات کے تناظر میں کی گئی ہیں۔

مشقوں کے اختتام پر سعودی بحری مشق کے کمانڈر رئیرایڈمرل اسٹاف ساجر بن رفید العنزی نے کہا مشقوں میں شاہی بحری جہاز بھی شریک ہوئے جنہوں نے پاکستان نیوی کے ساتھ ملکر متعدد بحری مشقیں کیں۔

علاوہ ازیں مشقوں میں فضائی اورزمینی حملوں کے علاوہ الیکٹرانک جنگ کی حکمت عملی بھی شامل تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ مشترکہ فورسز نے مختلف نوعیت کی بحری مشقوں میں حصہ لیا جن میں بارودی سرنگیں اور فاسٹ بوٹس کے ذریعے حملے اور جہاز رانی کے دوران مختلف انواع کی مشقیں شامل تھیں۔

مشقوں کا اختتام بحری میزائل کی لانچنگ اور فضائیہ کی جانب سے متحرک ہدف کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں شامل تھیں جن میں قریب اور دور کے ہدف کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

واضح رہے کہ سعودی شاہی بحریہ کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل فہد بن عبداللہ الغفیلی نے بھی مشترکہ مشقوں کا مشاہدہ کیا۔

میزائل فائرنگ میں رائل سعودی ایئر فورس کے ایف 15 جہاز نے پہلی بار شرکت کی۔ مشق کے دوران پاکستانی بحریہ، سعودی بحریہ اور فضائیہ کے یونٹس نے کامیابی سے اپنے اہداف کو نشانہ بنایا۔

دونوں بحری افواج کے سربراہان نے جوائنٹ فلیٹ ریویو کے دوران مشق میں شریک بحری جہازوں کا معائنہ بھی کیا۔

مشق نسیم البحر دونوں ممالک کے دفاعی تعلقات کے فروغ اور بحری خطرات سے مل کر نبرد آزما ہونے کے عزم کا اظہار ہے۔