.

پولیس اور تحریک لبیک کے کارکنان کے درمیان جھڑپیں، دو پولیس اہلکارجاں بحق

کالعدم جماعت کا لانگ مارچ ناکام بنانے کے لیے راستے بند، شہریوں کو مشکلات کا سامنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

صوبائی دارلحکومت لاہور میں کالعدم تنظیم کی جانب سے احتجاج کے دوران مظاہرین نے پولیس اہلکاروں کو کچل ڈالا جس کے ‏نتیجے میں 2 اہلکار جاں بحق ہو گئے۔

تفصیلات کے مطابق کالعدم مذہبی وسیاسی جماعت تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے کارکنوں کو اسلام آباد کی جانب مارچ سے روکنے کے لیے ‏پولیس اور مظاہرین کے درمیان سے صبح سے ہی تصادم کے واقعات پیش آئے ہیں۔

شہر میں کئی مقامات پر کنٹینرز لگا کر راستوں کو عام ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا تھا۔ مظاہرین کی پیش قدمی پر پولیس نے آنسو گیس کی شیلنگ کی ‏اس دروان ناکوں پر موجود پولیس اہلکاروں پر مظاہرین نے گاڑی چڑھا دی۔

مظاہرین نے ڈیوٹی پر مامور اہلکاروں کو گاڑی تلے روند ڈالا جس کے نتیجے میں 5 اہلکار زخمی ہوئے جن میں 2 ‏کانسٹیبل زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اسپتال میں دم توڑ گئے۔

پولیس سے تصادم میں مظاہرین بھی زخمی ہوئے ہیں۔کارکنوں کو روکنے کے لیے پولیس نے بڑے آپریشن کی ‏تیاری کر لی ہے اس حوالے سے اعلیٰ افسران سڑکوں پر موجود ہیں اور حکمت عملی ترتیب دے رہے ہیں۔ ‏

پولیس نے کالعدم تنظیم کے ہیڈکوارٹرز کے باہر موجود مظاہرین کو بھی ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جس کے لیے بھرپور ‏کارروائی کی جائے گی۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق میٹرو اور اورنج لائن سروس معطل کیے جانے کے بعد اب لاہور سے اسلام آباد کے ‏لیے موٹروے کو بھی بند کر دیا گیا ہے۔ لاہور کے داخلی و خارجی راستوں کو بیریئرز لگا کر بند کیا گیا ہے اور پولیس اہلکاروں کی بڑی تعداد سیکورٹی پر ‏مامور ہے۔

کالعدم مذہبی وسیاسی جماعت تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے لانگ مارچ اور احتجاجی دھرنے کے پیش نظر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سمیت مختلف شہروں میں سکیورٹی کے انتظامات سخت کر دیے گئے تھے۔

اس سے قبل ترجمان تحریک لبیک کے مطابق ان کی جماعت اور کارکن بعد از نماز جمعہ اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا آغاز کریں گے۔ تنظیم کی مرکزی شوریٰ کہہ چکی ہے کہ اگر مارچ روکنے کی کوشش کی گئی تو ‘ہمارے پاس پلان بی بھی موجود ہے۔‘

تحریکِ لبیک کے اہم مطالبات میں تنظیم کے رہنما سعد رضوی کی رہائی اور فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کے حوالے سے حکومت اور تحریکِ لبیک پاکستان کے درمیان کیے گئے معاہدے پر عملدرآمد ہے۔

ٹی ایل پی کی لانگ مارچ سے قبل حکام کی جانب سے موٹروے ایم ٹو پر لاہور کے قریب بابو صابو انٹرچینج کو بند رکھا گیا ہے، جبکہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے داخلی راستوں اور مرکزی شاہراہوں کو جزوی یا مکمل طور پر بند کرنے کے لیے کنٹینرز لگائے گئے ہیں۔

خیال رہے کہ تنظیم نے اپنے مطالبات منوانے کے لیے دو روز سے لاہور میں دھرنا دے رکھا ہے جس کے باعث کشیدگی میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

پنجاب حکومت کی درخواست پر وفاقی حکومت نے لاہور میں ٹی ایل پی کے مرکز یتیم خانہ سے ملحقہ علاقوں میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بند کر دی ہے جب کہ اس علاقے کے کاروباری مراکز بھی بند ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس تاحکمِ ثانی بند رہے گی۔

ٹی ایل پی نے فرانسیسی سفیر کی بے دخلی اور اپنے امیر سعد رضوی کی رہائی کے لیے حکومت کو 21 اکتوبر کی شام تک کی ڈیڈ لائن دی تھی۔ تاہم پاکستان کے وزیرِ داخلہ شیخ رشید احمد نے جمعرات کو صحافیوں سے گفتگو میں کہا ہے کہ فرانسیسی سفیر کی بے دخلی سے یورپی ملکوں کے ساتھ پاکستان کے تعلقات خراب ہوں گے۔

ادھر مزید کارکنوں کو چوک یتیم خانہ جانے سے روکنے کے لیے پولیس نے بھی حکمتِ عملی مرتب کر لی ہے۔

پولیس کے مطابق لاہور، راولپنڈی، پاکپتن، قصور، ملتان، شیخوپورہ، چکوال، ڈیرہ غازی خان، گجرات اور جہلم سمیت کئی شہروں سے ٹی ایل پی کے درجنوں کارکنوں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

ٹی ایل پی نے ملتان رورڈ پر کنٹینر کھڑے کر کے سڑک بند کر رکھی ہے جب کہ اطراف کی گلیوں میں رکاوٹیں کھڑی کر کے راستے بند کر رکھے ہیں۔ جس کے باعث شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

خیال رہے سعد رضوی اپنے والد خادم حسین رضوی کے انتقال کے بعد ٹی ایل پی کے سربراہ مقرر ہوئے۔ جو رواں برس اپریل سے کوٹ لکھپت جیل لاہور میں قید ہیں۔ اُن کے خلاف انسدادِ دہشت گردی سمیت مختلف دفعات کے تحت مقدمات درج ہیں۔

اورنج لائن ٹرین اسٹیشن میں توڑ پھوڑ

اطلاعات کے مطابق جمعرات کی صبح اورنج لائن میٹرو ٹرین کے بند روڈ اسٹیشن پر ٹی ایل پی کے کارکنوں نے حملہ کیا۔ اسٹیشن پر توڑ پھوڑ کی اور نقصان پہنچایا۔ جس کے باعث لاہور پولیس نے اورنج لائن اسٹیشن منیجر عتیق الرحمن کی مدعیت میں دہشت گردی، ڈکیتی اور دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔ مقدمہ میں 22 افراد نامزد جب کہ 50 نامعلوم ہیں۔

ایف آئی آر کے مطابق 80 افراد اسلحہ، ڈنڈوں، آہنی راڈ اور پیٹرول کی بوتلیں ہاتھ میں پکڑے ہوئے آئے۔ ملزمان نے اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی اور عملے کو یرغمال بنا لیا۔

ایف آئی آر کے مطابق مشتعل کارکنوں نے آہنی راڈوں سے گیٹ کے تالے اور شیشے توڑ دیے اور اسلحہ کی نوک پر واکی ٹاکی سیٹ، سکینر، ٹارچیں اور ہزاروں روپے چھین لیے۔

یاد رہے کہ تحریک کا اپریل میں ہونے والے احتجاجی مظاہرہ پاکستان کی قومی اسمبلی کی جانب سے کالعدم مذہبی جماعت تحریکِ لبیک پاکستان کے مطالبے پر فرانس کے سفیر کی ملک بدری پر بحث کے لیے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دینے کے فیصلے کے بعد ختم کیا گیا تھا۔

ٹی ایل پی سربراہ کی گرفتاری

حال ہی میں لاہور ہائی کورٹ نے تحریک لبیک کے سربراہ حافظ سعد رضوی کے چچا کی درخواست پر ان کی نظر بندی کا نوٹیفیکیشن کالعدم قرار دیا گیا تاہم پنجاب حکومت نے سعد رضوی کی رہائی کے عدالتی فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا تھا۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے سعد رضوی کو رہا کرنے کا جو حکم دیا گیا ہے اس میں قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔

پنجاب حکومت کا مؤقف ہے کہ عدالتِ عالیہ کو اس کیس سے متعلق تفصیلی ریکارڈ بھی فراہم کیا گیا تھا اور یہ کہ سعد رضوی کی نظربندی کا حکومتی فیصلہ قانونی طور پر درست ہے۔

صوبائی حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ سے استدعا کی گئی کہ سعد رضوی کی رہائی کے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے۔

تاہم سپریم کورٹ نے اس معاملے پر ابتدائی سماعت کے بعد یہ معاملہ دوبارہ لاہور ہائیکورٹ کو ریفر کر دیا ہے۔

‎یاد رہے کہ اپنے والد خادم رضوی کی وفات کے بعد مذہبی جماعت ٹی ایل پی کے سربراہ مقرر ہونے والے سعد رضوی کو پہلے وفاقی حکومت کے احکامات پر ایم پی او (نقض امن عامہ) کے قانون کے تحت نظر بند کیا گیا تھا اور ساتھ ہی انھیں انسدادِ دہشت گردی کے قانون کی دفعہ 11 ٹرپل ای کے تحت بھی جیل میں رکھا گیا تھا۔