.

امریکی خصوصی صدارتی نمائندہ برائے ماحولیات جان کیری کی پاکستانی وزیر اعظم سے ملاقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے چیلنج سے نمٹنے کیلئے پاکستان اور امریکہ کو باہمی تجربات سے استفادہ کرنا چاہئے۔ امریکہ آئی ڈی ایف سی کے ذریعے موسمیاتی تبدیلی کے شعبہ میں سرمایہ کاری کو فروغ دے۔ پرامن اور مستحکم افغانستان، پاکستان اور خطہ کے مفاد میں ہے۔ عالمی برادری افغانستان میں امن وسلامتی کے فروغ اور انسانی بحران اور اقتصادی بدحالی سے بچنے کیلئے کردار ادا کرے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے مڈل ایسٹ گرین سمٹ کے موقع پر پیر کے روز امریکی خصوصی صدارتی نمائندہ برائے ماحولیات جان کیری سے ریاض میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

حکومت پاکستان کی طرف سے موسمیاتی تبدیلی کے مسئلہ کو ترجیح بنانے کے حوالہ سے وزیراعظم نے کہا کہ اس خطرے سے نمٹنے کیلئے قومی اور عالمی سطح پر کوششیں تیز کرنے کی ضرورت ہے۔

وزیراعظم نے امریکی خصوصی نمائندہ کو موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے پاکستان اور ترقی پذیر ممالک کو درپیش چیلنجوں سے متعلق اپنے نقطہ نظر سے آگاہ کیا اور ماحولیاتی چیلنجوں سے نمٹنے کیلئے 10 بلین ٹری سونامی منصوبے سمیت پاکستان کے اقدامات اور تجربات کو اجاگر کیا۔

ماحولیاتی تبدیلی اور ماحولیات پر پاکستان اور امریکہ کے درمیان جاری تعاون کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے حال ہی میں منعقد ہونے والے “یو ایس پاکستان کلائمیٹ اینڈ انوائرمنٹ ورکنگ گروپ” کے اجلاس پر اطمینان کا اظہار کیا جس میں ماحولیات سے متعلق پاکستان اور امریکہ کے درمیان دوطرفہ تعاون کے شعبوں کی نشاندہی کی گئی۔

امریکہ کے خصوصی ایلچی جان کیری نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان دیرینہ تعلقات ہیں جنہیں باہمی ہم آہنگی کے شعبوں بشمول آب و ہوا اور ماحولیات میں مزید مضبوط بنایا جانا چاہئے۔ انہوں نے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لئے پاکستان کی طرف سے کئے جانے والے مختلف اقدامات کو سراہا۔

امریکی انتظامیہ کی طرف سے موسمیاتی تبدیلی کے مسئلہ کو ترجیح بنانے کے حوالہ سے جان کیری نے وزیر اعظم کو رواں ماہ کے آخر میں بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے یو این ایف سی سی سی کانفرنس آف پارٹیز (سی او پی 26) میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کیلئے وسیع تر اتفاق رائے پیدا کرنے کے لئے اٹھائے گئے مختلف اقدامات سے آگاہ کیا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے خلاف باہمی طور پر مفید مواقع کو بہتر بنانے کے لئے اپنے خیالات ، تجربےاور ٹیکنالوجی سے استفادہ جاری رکھنا چاہئے۔ وزیراعظم نے کہا کہ امریکہ موسمیاتی تبدیلی کے مسئلہ سے نمٹنے کیلئے یو ایس انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ فنانس کارپوریشن (ڈی ایف سی) کے ذریعے دوطرفہ تعلقات میں اضافہ کے امکانات کا جائزہ لے تاکہ پاکستان اور ترقی پذیر ممالک میں موسمیاتی تبدیلی کے خطرے سے نمٹنے کیلئے سرمایہ کاری کی جا سکے۔

امریکی خصوصی نمائندہ نے کہا کہ ان شعبوں میں تعاون کے وسیع گنجائش موجود ہے اور انہوں نے متبادل ذرائع سے بجلی کی پیداوار کے منصوبوں سمیت دوطرفہ تعاون کے مواقع کاجائزہ لینے کی خواہش کا اظہار کیا۔فریقین نے اس سلسلے میں تعاون کے مؤثر فریم ورک کی تیاری کیلئے آئندہ کے اقدامات کے تعین کیلئے قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔

علاقائی تناظر میں وزیراعظم نے پاکستان اور خطے کے لئے پرامن اور مستحکم افغانستان کی اہمیت پر زور دیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ افغانستان میں امن وسلامتی کے قیام اور انسانی بحران اور اقتصادی بدحالی سے بچنے کیلئے بین الاقوامی برادری کو عملی طور پر اقدامات کرنے چاہیئں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ افغان عوام کی بھلائی کے لئے مثبت رابطوں اور اقتصادی وسائل اور مالیاتی اثاثے جاری کرنے کی ضرورت ہے۔