.

اسلام آباد: افغانستان کے لئے ٹرائیکا پلس اجلاس کا افتتاحی سیشن

عالمی برادری افغانستان کے حوالے سے ماضی کی غلطیاں نہ دہرائے: شاہ محمود قریشی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسلام آباد میں افغانستان کے لئے دو روزہ ٹرائیکا پلس اجلاس کا آغاز ہو گیا ہے جس میں روس، امریکا اور چین کے وفود شریک ہیں۔

اجلاس کے افتتاحی سیشن سے خطاب کے دوران پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ "افغانستان معاشی تباہی کے دھانے پر کھڑا ہے،عالمی برادری منجمد وسائل تک رسائی اورہنگامی بنیادوں پر انسانی امداد کی فراہمی کو یقینی بنائے۔"

شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ "طالبان رابطوں میں دلچسپی رکھتے ہیں، وہ چاہتے ہیں کہ دنیا ان کی حکومت کو تسلیم کرے اور ان کی مدد کرے۔عالمی برادری ماضی کی غلطیاں د ہرانے سے بچے اور مثبت روابط جاری رکھے ۔"

اس سے قبل افغانستان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی گذشتہ روز پاکستان کے تین روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچے تھے۔ طالبان کی جانب سے کابل کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد سینئر افغان حکام کا یہ پہلا دورہ پاکستان ہے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود نے اپنے خطاب میں کہا کہ افغانستان کے ساتھ رابطہ نہ صرف بحال رہنا چاہئے بلکہ کئی وجوہات کی بنا پر اس میں اضافہ ہونا چاہئے تاکہ پھر سے یہ ملک خانہ جنگی کی نذر نہ ہو، کوئی بھی دوبارہ ایسا ہوتے دیکھنا نہیں چاہتا، معاشی انحاط وانہدام کا بھی کوئی خواہاں نہیں، جس سے عدم استحکام بڑھے گا۔ ہر کوئی یہ چاہتا ہے کہ افغانستان کے اندر فعال دہشت گرد عناصر سے موثر انداز سے نمٹا اور مہاجرین کے ایک نئے بحران سے بچا جائے۔افغانستان سے متعلق ہم سب کی تشویش وفکر مندی مشترک ہے جبکہ وہاں امن واستحکام ہم سب کے مشترکہ مفاد میں ہے۔

انہوں نے پاکستان کی جانب سے افغان باشندوں کی امدادی سرگرمیوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ افغانستان میں کسانوں کی مدد کے لئے کھانے پینے کی اشیاءکو کسٹم ڈیوٹی سے مستثنیٰ قرار دینا،انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی فراہمی،پیدل آمدورفت کی سہولت،کورونا وائرس کی وبا کے دوران سرحد کو کھولے رکھا ،بیماروں اور علاج کے لئے آنے والوں کو ان کی آمد پر ویزا کی فراہمی کی سہولت شامل ہیں۔

ٹرائیکا میٹنگ