.

گریمی ایوارڈز میں دو نامزدگیاں حاصل کرنے والی عروج آفتاب سے ملیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

موسیقی کی دنیا کے سب سے بڑے ایوارڈز 'گریمی 2022' کے لیے پاکستانی گلوکارہ اور موسیقار عروج آفتاب کو دو کیٹگریز میں نامزد کیا گیا ہے۔

بدھ کو 64 ویں گریمی ایوارڈز کی نامزدگیوں کا اعلان کیا گیا ہے۔ گریمی کے فاتحین کا اعلان 31 جنوری 2022 کو لاس اینجلس میں ایوارڈز کی رنگا رنگ تقریب میں ہو گا۔

گریمی کی نامزدگیوں میں پاکستانیوں کے لیے خاص بات یہ ہے کہ معروف عالمی شخصیات کے ساتھ پاکستانی گلوکارہ عروج آفتاب کو دو کیٹگریز کے لیے چنا گیا ہے۔

عروج آفتاب کو 'بیسٹ نیو آرٹسٹ' کی کیٹگری میں نامزد کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے گانے 'محبت' کو بیسٹ گلوبل میوزک پرفارمنس کی کیٹگری کے لیے بھی نامزد کیا گیا ہے۔

'بیسٹ نیو آرٹسٹ' کیٹگری میں عروج آفتاب کے ساتھ برطانوی گلوکارہ آرلو پارکس، امریکی گلوکار فینیئس او کونل، راک بینڈ گلاس انیملس، راک بینڈ جیپنیز بریک فاسٹ، امریکی گلوکار جمی ایلن، امریکی گلوکارہ اولیویا روڈریگو، امریکی ریپر سوئٹی، آسٹریلوی گلوکار دی کڈ لورائی اور امریکی گلوکار بے بی کیم شامل ہیں۔

عروج آفتاب کا گریمی ایوارڈز کے لیے نامزد ہونے والا گانا 'محبت' امریکہ کے سابق صدر براک اوباما کے پسندیدہ گانوں کی فہرست 'سمر پلے لسٹ 2021' میں شامل تھا۔ پاکستانی گلوکارہ عروج آفتاب کی گریمی ایوارڈز کے لیے نامزد ہونے کے اعلان کے بعد سوشل میڈیا پر ان کا نام ٹرینڈ کرنے لگا۔

پاکستان شوبز انڈسٹری سے تعلق رکھنے والی شخصیات سمیت دیگر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے عروج آفتاب کو مبارک باد دی جا رہی ہے۔

امریکی میوزک پبلیکیشن 'پچ فورک' کے مطابق عروج آفتاب سعودی عرب میں پیدا ہوئی تھیں اور وہاں 11 برس گزارنے کے بعد وہ اہلِ خانہ کے ہمراہ پاکستان کے شہر لاہور منتقل ہوئیں جو ان کے والدین کا آبائی شہر ہے۔

بعد ازاں وہ میوزک کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے امریکہ کے برک لے کالج آف میوزک گئیں جہاں انہوں نے میوزک پروڈکشن اینڈ انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی جس کے بعد وہ نیویارک منتقل ہو گئیں۔

موسیقار اور گلوکارہ عروج آفتاب نے 2000 کے آغاز میں 18 برس کی عمر میں کینیڈین گلوکار لیونرڈ کوہن کا گانا 'ہالولویا' گایا تھا جو یوٹیوب اور سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہوا تھا۔

رواں برس مئی میں عروج آفتاب کا 'ولچر پرنس' نامی البم ریلیز ہوا تھا جس میں سات گانے شامل تھے۔

گریمی ایوارڈز کے لیے نامزد ہونے سے قبل گزشتہ برس نومبر میں عروج کو 'بیسٹ ہپ ہاپ اور ریپ' کیٹگری کے لیے پہلے لاطینی گریمی ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔ علاوہ ازیں 2020 میں انہیں مختصر فلم 'بِٹو' میں موسیقی ترتیب دینے کے لیے اسٹوڈنٹ اکیڈمی ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔