.

سعودی عرب کے تیل سمیت مالی پیکج بحالی کی سمری پاکستانی کابینہ سے منظور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی کی جانب سے پاکستان کو ملنے والے 3 ارب ڈالر اور 1.2 ارب ڈالر مالیت کے تیل کی سہولت کے پیکج بحالی کی سمری کی کابینہ نے منظور دے دی۔

خزانہ ڈویژن کی جانب سے پیش کی گئی سمری میں نشان دہی کی گئی تھی کہ دونوں ممالک کے درمیان معاہدے کی تیاری کے بعد جانچ پڑتال کی گئی اور وزارت قانون اور اٹارنی جنرل آف پاکستان کے دفتر سے کلیئر ہو گئی تھی اور وزیراعظم کو بھیج دی گئی تھی۔

سمری کی کاپی میں کہا گیا کہ ‘ایکسچینج ریٹ کے حوالے سے موجودہ دباؤ فوری طور پر کم کرنے کے لیے’ وزیراعظم اس کو کابینہ کے سامنے رکھنے کی منظوری دے دیں۔ سمری میں کہا گیا کہ ایک سالہ معاہدے سے سالانہ 4 فیصد منافع ہو گا۔

معاشی امور کی وزارت کی جانب سے پیش کی گئی ایک اور سمری پیش کی گئی جو ایک سال کے لیے 10 کروڑ ڈالر مالیت کی تیل کی سہولت سے متعلق تھے۔

مذکورہ سمری میں کہا گیا تھا کہ باہمی رضامندی سے ایک سال کی توسیع دی جا سکتی ہے، جس میں 3.80 فیصد مارجن کے ساتھ سعودی ڈیولپمنٹ فنڈ (ایس ایف ڈی) سے خریداری قیمت سمیت دیگر شرائط کی نشان دہی کی گئی ہے۔

وزیر معاشی امور عمر ایوب خان کو سمری وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کرنے کا اختیار دیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ وزیراعظم عمران کی جانب سے اکتوبر میں دورہ سعودی عرب کے موقع پر مالی پیکج کی فراہمی اور تیل کی سہولت دینے کے معاہدے پر اتفاق کیا گیا تھا۔

رواں ہفتے وزیراطلاعات فواد چوہدری نے ٹوئٹر پر اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ سعودی عرب سے 3 ارب ڈالر ٹرانسفر کے حوالے سے تمام قانونی معاملات طے پاگئے ہیں اور یہ ڈالر رواں ہفتے پاکستان کو مل جائیں گے۔

مشیر خزانہ شوکت ترین نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ سعودی عرب نے تیل خریدنے کے لیے پاکستان کو 3.6 ارب ڈالر فراہم کرنے پر رضا مندی کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ سعودی عرب حکومت پاکستان کو یہ رقم ماہانہ بنیادوں پر فراہم کرے گا، دو سال کے دوران سعودی حکومت پاکستان کو ماہانہ 15کروڑ ڈالر فراہم کرے گی اور یہ رقم پاکستان صرف تیل کی خریداری کے لیے استعمال کر سکے گا۔

اس سے قبل انہوں نے قومی اسمبلی میں خطاب کے دوران بتایا تھا کہ سعودی عرب سے تیل کی فراہمی کا معاہدہ تکمیل کے قریب ہے اور دوست ملک موخر ادائیگیوں پر تیل فراہم کرے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں