توہین مذہب کے مبینہ الزام پر سری لنکن شہری پاکستانی ہجوم کے ہاتھوں قتل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

پاکستانی صوبہ پنجاب کے شہر سیالکوٹ میں مشتعل ہجوم نے توہین مذہب کا الزام عائد کرتے ہوئے ایک سری لنکن شہری کو تشدد کر کے ہلاک کر دیا اور لاش کو سڑک پر لا کر آگ لگا دی۔ سری لنکن شہری کی شناخت پریانتھا دیاوادانا کے نام سے کی گئی ہے اور اطلاعات کے مطابق وہ سیالکوٹ کی ایک فیکٹری میں بطور ایکسپورٹ منیجر کام کر رہے تھے۔

میڈیا کے توسط سے سامنے آنے والی ابتدائی معلومات سے پتہ چلا ہے کہ پیغمبر اسلامﷺ کے نام والے اسلامی اسٹکرز کے معاملے میں پریانتھا دیاوادانا پر توہین مذہب کا الزام لگایا گیا تھا۔ ابھی تک کوئی کیس درج نہیں ہوا اور پولیس اس ہلاکت کے ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کے لیے کام کر رہی ہے۔‘‘لاش کو آگ لگا دی گئی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ہجوم نے انہیں فیکٹری کے اندر ہی تشدد کا نشانہ بنانا شروع کر دیا تھا۔

سوشل میڈیا پر بھی اس واقعے کی کئی ویڈیوز گردش کر رہی ہیں جن میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ہجوم ایک انتہائی تشدد زدہ لاش کو سڑک پر گھسیٹ کر لاتا ہے اور پھر سینکڑوں افراد کی موجودگی میں اسے آگ لگا دی جاتی ہے۔ وہاں موجود سینکڑوں افراد پریانتھا دیاوادانا کو قتل کرنے والے افراد کی ستائش کرتے بھی دکھائی دے رہے ہیں۔

پاکستان میں توہین مذہب کے الزامات عائد کر کے ہجوم کے ہاتھوں قتل کر دیے جانے کے واقعات تواتر سے سامنے آتے ہیں تاہم ایسا کم ہی ہوا ہے کہ یوں کسی غیر ملکی شہری کو قتل کیا گیا ہو۔

سوشل میڈیا پر موجود ویڈیوز میں یہ بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ مشتعل ہجوم اور واقعے کے وقت موجود دیگر سینکڑوں افراد ویسے ہی نعرے لگا رہے تھے جیسے نعرے تحریک لبیک پاکستان کے کارکن اپنے دھرنوں اور جلسوں میں بلند کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

اس واقعے پر پنجاب کے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے بھی شدید افسوس کا اظہار کیا ہے۔ اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں انہوں نے لکھا، ''سیالکوٹ میں پیش آنے والے واقعے پر مجھے شدید صدمہ ہوا ہے۔ میں نے انسپکٹر جنرل پولیس کو ہدایت دی ہے کہ وہ تفصیلی تحقیقات کریں۔ کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں۔ میں اس بات کی یقین دہانی کراتا ہوں کہ اس غیر انسانی عمل میں شریک کسی شخص کو نہیں بخشا جائے گا۔‘‘

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں