او آئی سی اجلاس کی میزبانی کا مقصد طالبان حکومت کو تسلیم کرنا نہیں: پاکستان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

پاکستان 19 دسمبر بروز اتوار اسلامی ملکوں کے نمائندہ فورم اسلامی تعاون تنظیم 'او آئی سی' کے 17 ویں غیر معمولی اجلاس کی میزبانی کر رہا ہے۔ پاکستان کا اس اجلاس کی میزبانی سے متعلق کہنا ہے کہ اس کا مقصد طالبان حکومت کو ہر گز تسلیم کرنا نہیں بلکہ افغان عوام کو درپیش مسائل پر اسلامی ملکوں کا تعاون حاصل کرنا ہے۔

پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے جمعے کو او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے غیر معمولی اجلاس کے اغراض ومقاصد کے حوالے سے مقامی اور بین الاقوامی میڈیا نمائندگان کو بریفنگ دی۔

شاہ محمود کے مطابق او آئی سی وزرائے خارجہ کے اجلاس کے ذریعے عالمی برادری کو افغانستان کی حقیقی صورت حال سے آگاہ کرنے کی کوشش کی جائے گی اور اس کانفرنس کا مقصد لاکھوں افغان شہریوں کی انسانی بنیاد پر فوری امداد کے لیے لائحہ عمل تشکیل دینا ہے جس کے تحت افغان عوام کو مشکلات سے نکالنے کے لیے آگے بڑھا جائے۔

انہوں نے کہا کہ اجلاس کا مقصد طالبان حکومت کو تسلیم کرنا نہیں بلکہ طویل لڑائی کے بعد عدم استحکام کے شکار ملک میں ابھرتے ہوئے انسانی المیہ کو روکنے کے اسباب پیدا کرنا ہے۔

او آئی سی کے سیکرٹری جنرل حسین ابراہیم طہٰ کانفرنس میں شرکت کے لیے جمعرات کو اسلام آباد پہنچے تھے اور انہوں نے کانفرنس کی تیاریوں کا جائزہ لیا۔ کانفرنس کے انعقاد کے لیے پارلیمنٹ ہاؤس کا انتخاب کیا گیا ہے جس کی ابتدائی نشست سے وزیرِ اعظم عمران خان خطاب کریں گے۔

پاکستان کے دفترِ خارجہ کے مطابق او آئی سی کے تمام رکن ممالک نے کانفرنس میں شرکت کی تصدیق کی ہے جب کہ امریکہ کے نمائندۂ خصوصی برائے افغانستان تھامس ویسٹ سمیت اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچوں مستقل ملک (چین، امریکہ، برطانیہ، روس اور فرانس) کے نمائندے بھی شریک ہوں گے۔

پاکستان کی جانب سے اس کانفرنس کے لیے اقوامِ متحدہ اور اس کے ذیلی اداروں سمیت عالمی بینک اور یورپی یونین کو بھی شرکت کی دعوت دے رکھی ہے۔ جرمنی، جاپان، کینیڈا، آسٹریلیا کو بھی اس کانفرنس میں مدعو کیا گیا ہے۔

دفترِ خارجہ نے او آئی سی کے اس اجلاس میں طالبان کے اعلیٰ سطح کے وفد کی شرکت کی تصدیق کی ہے جو کہ عبوری وزیرِ خارجہ امیر خان متقی کی سربراہی میں اسلام آباد پہنچے گا۔

جمعے کو شاہ محمود نے صحافیوں کو طالبان حکومت کو تسلیم کرنے سے متعلق سوال پر کہا کہ افغان طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے کا معاملہ کانفرنس کا مرکزی نکتہ نہیں، بلکہ اولین ترجیح افغان عوام کے لیے امداد کا حصول ہے۔

ان کے مطابق طالبان کو تسلیم کرنے اور ان کے ساتھ روابط قائم کرنے میں فرق پایا جاتا ہے۔ کئی ملکوں کے وزرائے خارجہ کابل کا دورہ کر چکے ہیں تو کیا اس کا مطلب یہ لیا جائے کہ وہ طالبان کو تسلیم کرتے ہیں؟

شاہ محمود قریشی کہتے ہیں کہ بینکاری نظام کا بحال ہونا افغانستان میں معیشت کی بہتری کی جانب اہم قدم ہوگا جس کے لیے او آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس میں خاص طور پر بات ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ اجلاس میں اگر کوئی ملک افغانستان کی مالی معاونت کا اعلان کرتا ہے تو یہ خوش آئند ہوگا۔

وزیرِ خارجہ نے کہا کہ امریکہ کے سیکرٹری خارجہ نے بتایا ہے کہ افغانستان کے منجمد ساڑھے نو ارب ڈالر کو جاری کرنے کے لیے قانونی مراحل درپیش ہیں جس کے لیے وقت درکار ہے۔ تاہم انہوں نے زور دیا کہ اس منجمند رقم میں سے دو ارب ڈالر کے اجراء میں کوئی قانونی رکاوٹ نہیں ہے جس کے فوری جاری کرنے سے بحرانی صورتِ حال کو حل کرنے میں بڑی آسانی پیدا ہوسکے گی۔

پاکستانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ "او آئی سی کانفرنس بین الاقوامی رہنماؤں اور طالبان کے ساتھ براہِ راست بات چیت کا ایک اچھا موقع ہوگا جس کے ذریعے ایک دوسرے کے نکتۂ نظر کو سمجھنے کا موقع ملے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں