افغانستان کے حالات کی وجہ سے پاکستان نے زیادہ نقصان اٹھایا: وزیر اعظم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر افغانستان کی فوری مدد نہ کی گئی تو ملک افراتفری کا شکار ہو جائے گا جس سے لامحالہ دہشت گردی کو فروغ ملے گا۔

اتوار کو اسلام آباد میں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ امریکہ کو طالبان حکومت اور چار کروڑ افغان شہریوں کو الگ نظر سے دیکھنا ہو گا۔ اُن کا کہنا تھا کہ افغانستان میں موسمِ سرما عروج پر ہے اور سب جانتے ہیں کہ وہاں موسم کی شدت کتنی خطرناک ہوتی ہے۔ لہذٰا عالمی برادری بالخصوص امریکہ اور مغربی ممالک کو افغانستان کی مدد کے لیے آگے آنا ہو گا۔ اُن کا کہنا تھا کہ اگر افغانستان میں انسانی بحران نے شدت اختیار کی تو وہاں حکومت کمزر ہو گی جس سے دہشت گرد گروپس بشمول دولتِ اسلامیہ (داعش) کو پنپنے کا موقع ملے گا۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں بینک بند پڑے ہیں جب کہ سرکاری ملازمین کو تنخواہیں دینے کے لیے بھی افغان حکومت کے پاس رقوم نہیں ہیں۔

پاکستانی وزیرِ اعظم نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر افغانستان کی فوری مدد نہ کی گئی تو مہاجرین کی ایک نئی لہر آئے گی جس سے پاکستان اور ایران کے علاوہ یورپی ممالک بھی متاثر ہوں گے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم پہلے ہی بہت دیر کر چکے ہیں۔ لہذٰا اب وقت آ گیا ہے کہ افغانستان کی مدد کی جائے۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان کا کہنا ہے کہ دنیا کے کسی ملک نے افغانستان سے زیادہ مسائل نہیں دیکھے۔ افغان حالات کے باعث سب سے زیادہ پاکستان نے نقصان اٹھایا۔

عمران خان نے کہا کہ 41 سال بعد او آئی سی کا اجلاس پاکستان میں ہو رہا ہے اس موقع پر معزز مہمانوں کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہتا ہوں۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ جتنی مشکلات افغانوں نے اٹھائیں کسی اور ملک نے نہیں اٹھائیں، کسی بھی ملک کو افغانستان جیسی صورتحال کا سامنا نہیں رہا۔ افغانستان 4 دہائیوں سے خانہ جنگی کا شکار رہا ہے اور وہاں کے حالات کی وجہ سے سب سے زیادہ نقصان پاکستان نے اٹھایا اور سب سے زیادہ پاکستان ہی متاثر ہوا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 80 ہزار سے زائد پاکستانیوں نے جان کی قربانی دی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ افغانستان میں سالہا سال کرپٹ حکومتیں رہیں۔ افغانستان کی بڑی آبادی خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔ افغانستان میں خواتین اور انسانی حقوق کے معاملات حساسیت سے حل کرنے کی ضرورت ہے اور ان کی مدد کرنا ہماری مذہبی ذمہ داری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بروقت اقدام نہ اٹھانے سے افغانستان میں افراتفری پھیلے گی۔

یہ افغان عوام کی بقا کا معاملہ ہے۔ افغان عوام کی مدد کے لئے فوری اقدامات کرنے ہوں گے۔ ایک مستحکم افغانستان ہی خطے میں دہشت گردی کے خاتمے کیلئے معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے امید کا اظہار کیا کہ او آئی سی پرامن افغانستان کیلئے اپنا کردار ادا کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت فلسطین اور کشمیری عوام ہماری طرف دیکھ رہے ہیں۔ ہمیں ہر فورم پر فلسطین اور کشمیریوں کے لیے آواز اٹھانا ہو گی۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ اسلاموفوبیا بہت اہم مسئلہ ہے، نائن الیون کے بعد اسلاموفوبیا کی لہر میں شدت آئی ہے۔ اسلام کو دہشت گردی سے جوڑنا حقیقت کے منافی ہے۔ کوئی بھی مذہب دہشت گردی کی اجازت نہیں دیتا۔ اسلام ایک ہی ہے اور وہ اسلام ہمارے پیارے نبی کریمﷺ کا ہے۔ ہمیں اسلام کے حقیقی تشخص کو اجاگر کرنا ہو گا، او آئی سی کی ذمہ داری ہے اسلام کا مثبت تشخص دکھایا جائے، ہمیں اسلام مخالف پروپیگنڈے کے تدارک کیلئے ہمیں ایک موثر آواز بننا ہے۔ پاکستان میں رحمت للعالمین اتھارٹی کے قیام کا مقصد ہی نبی کریمﷺکی تعلیمات سے دنیا کو روشناس کرانا ہے۔

اس سے قبل افغانستان کے معاملے پر اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے وزرائے خارجہ کا غیر معمولی اجلاس اتوار کی صبح شروع ہوا تھا۔ پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے اس اجلاس میں او آئی سی کے رُکن ممالک کے نمائندوں سمیت امریکہ، چین، روس اور یورپی یونین کے مندوبین بھی شریک ہیں۔ امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغانستان گزشتہ شب اسلام پہنچے تھے۔ اس موقع پر اپنے بیان میں تھامس ویسٹ کا کہنا تھا کہ طالبان سے سفارت کاری میں افغان عوام ہمیشہ ہماری ترجیحات میں ہوں گے۔

وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ "او آئی سی کانفرنس بین الاقوامی رہنماؤں اور طالبان کے ساتھ براہِ راست بات چیت کا ایک اچھا موقع ہو گا جس کے ذریعے ایک دوسرے کے نقطۂ نظر کو سمجھنے کا موقع ملے گا۔''

طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کے سوال پر شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے کا معاملہ کانفرنس کا مرکزی نکتہ نہیں ہے بلکہ اولین ترجیح افغان عوام کے لیے امداد کا حصول ہے۔ پاکستان کے دفترِ خارجہ کے مطابق 20 سے زائد وزرائے خارجہ اجلاس میں شرکت کے لیے اسلام آباد آئے ہیں جب کہ متعدد ممالک کی نمائندگی نائب وزرائے خارجہ، سکریٹری خارجہ اور اعلیٰ حکام کر رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں