حکمران جماعت پی ٹی آئی کی تمام تنظیمیں تحلیل کر دی گئیں

قومی قیادت پر مشتمل آئینی کمیٹی نئی تنظیموں کیلئے بنیادی ڈھانچہ پیش کرے گی: فواد حسین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے خیبر پختونخوا میں پہلے مرحلے کے بلدیاتی انتخابات میں پی ٹی آئی کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کی تمام تنظیموں کو تحلیل کر دیا ہے، پی ٹی آئی کی قومی قیادت پر مشتمل اکیس رکنی آئینی کمیٹی پارٹی کی نئی تنظیموں کے بارے میں بنیادی ڈھانچہ دوبارہ پیش کرے گی، تحریک انصاف پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے جو قومی وفاقی جماعت کا درجہ رکھتی ہے، پی ٹی آئی میں خاندانی سیاست نہیں، عمران خان نے اپنے کیریئر میں کبھی بھی ذاتی رشتوں کو اپنے مشن پر حاوی نہیں ہونے دیا۔

جمعہ کو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت پاکستان تحریک انصاف کی سینئر لیڈر شپ کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے پارٹی کی سینئر قیادت سے مشاورت کے بعد پاکستان تحریک انصاف کی تمام تنظیموں کو تحلیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی قومی قیادت پر مشتمل آئینی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو پارٹی کے نئے آئین پر کام کر رہی ہے، کمیٹی نئی تنظیموں کے بارے میں بنیادی ڈھانچہ بھی دوبارہ پیش کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ سینئر اراکین پر مشتمل کمیٹی کی منظوری کے بعد نئی تنظیمیں تشکیل دی جائیں گی۔

انہوں نے بتایا کہ اجلاس میں خیبر پختونخوا کے انتخابات اور پاکستان کی عمومی صورتحال پر تبادلہ خیال ہوا، تحریک انصاف پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے جو وفاقی جماعت کا درجہ رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان وفاق کے لیڈر ہیں، گوادر سے خیبر تک اور کراچی سے لاہور تک ہر جگہ ان کا ووٹ بینک موجود ہے، تحریک انصاف کے علاوہ کوئی دوسری جماعت 1100 سے 1200 نشستوں پر اپنے امیدوار کھڑے کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی اندرون سندھ اور ن لیگ پنجاب کی پارٹیاں ہیں، بحیثیت اراکین تحریک انصاف ہم پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم وفاق کی ذمہ داریوں کو تندہی سے انجام دیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی سیاست متاثر ہوئی تو اس سے پاکستان کی سیاست متاثر ہوگی، وزیراعظم عمران خان نے خیبر پختونخوا کے پہلے مرحلے کے بلدیاتی انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کی پرفارمنس پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے، ویلیج کونسل کے انتخابات کے نتائج سامنے آ رہے ہیں، پاکستان تحریک انصاف اس وقت بھی خیبر پختونخوا کی سب سے بڑی جماعت ہے۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی میں خاندانی سیاست نہیں، عمران خان نے اپنے کیریئر میں کبھی بھی ذاتی رشتوں کو اپنے مشن پر حاوی نہیں ہونے دیا، پیپلز پارٹی اور ن لیگ کا کلچر پی ٹی آئی میں آیا تو ان میں اور ہم میں فرق نہیں رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے بلدیاتی انتخابات میں میرٹ کے برعکس ٹکٹ تقسیم کئے گئے، وزیراعظم نے بلدیاتی انتخابات میں آنے والی شکایات پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کو جس طریقے سے ایک بڑی جماعت کے طور پر اپنا کردار ادا کرنا چاہئے تھا، وہ خیبر پختونخوا کے بلدیاتی انتخابات میں نظر نہیں آیا لہذا چیئرمین پاکستان تحریک انصاف نے پی ٹی آئی کی سینئر قیادت سے مشاورت کے بعد تحریک انصاف کی تمام تنظیموں کو تحلیل کرنے کا فیصلہ کیا، پی ٹی آئی کے تمام عہدیداروں کو عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے، پارٹی کی قومی لیڈر شپ پر مشتمل نئی آئینی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، اس کمیٹی میں خیبر پختونخوا سے پرویز خٹک، محمود خان، مراد سعید، اسد قیصر، علی امین گنڈا پور شامل ہیں، پنجاب سے وہ خود (فواد چوہدری)، شاہ محمود قریشی، حماد اظہر، خسرو بختیار، چوہدری محمد سرور، سیف اللہ نیازی، عامر کیانی، عثمان بزدار شامل ہوں گے، بلوچستان سے قاسم سوری جبکہ سندھ سے عمران اسماعیل اور علی زیدی اور وفاقی دارالحکومت سے اسد عمر اس کمیٹی کا حصہ ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ کسی رشتہ دار کو ٹکٹ دینے کے معاملات دیکھنے کے لئے خصوصی کمیٹی تشکیل دی جائے گی، ایسے کیسز اس کمیٹی کے پاس آئیں گے اور وہ کمیٹی ٹکٹ دینے یا نہ دینے کا فیصلہ کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم جمہوریت کے لئے بلدیاتی اداروں کو اہم سمجھتے ہیں، خیبر پختونخوا میں دوسرے مرحلے کے بلدیاتی انتخابات کے لئے محمود خان کو ذمہ داری سونپی گئی ہے، ٹکٹ دینے کا ایک میکنزم بنایا جائے گا، یہ میکنزم وزیراعظم کی منظوری سے دیا جائے گا، پنجاب میں مقامی حکومتوں کے انتخابات کے ٹکٹ کا فیصلہ پاکستان تحریک انصاف کے سینئر ممبران پر مشتمل کمیٹی کے پاس آئے گا، یہ کمیٹی مرکزی سطح پر امیدواروں کا فیصلہ کرے گی تاکہ مقامی سطح پر کسی قسم کی رنجش جیسے معاملات سامنے نہ آئیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ فنانس بل ہمارا ذاتی بل نہیں، آئی ایم ایف کے پروگرام میں نہیں جانا چاہتے تو اپوزیشن اس کا متبادل حل سامنے لے آئے۔ انہوں نے کہا کہ اربوں ڈالر کا قرضہ ان لوگوں نے اپنے ادوار میں لیا جو ہمیں واپس کرنا ہے، اگر ان کے پاس کوئی متبادل نظام ہے تو وہ لے آئیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں