کرونا وائرس

اسلام آباد میں کرونا وائرس کی اومیکرون شکل کے پہلے کیس کی تصدیق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں حکام نے ہفتے کے روزکروناوائرس کی اومیکرون شکل کے پہلے کیس کی تصدیق کی ہے۔

اسلام آباد کے ضلعی افسرصحت (ڈی ایچ او) زعیم ضیاء نےبتایا کہ ایک 47 سالہ مرد میں اومیکرون وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔یہ شخص اسلام آباد میں کام کرتا ہےاور کام کی غرض سے ہی شہر سے باہر گیا تھا۔انھوں نے بتایا کہ مریض کی بیرون ملک سفر کی کوئی تاریخ نہیں تھی۔

انھوں نے کہا کہ اس شخص میں اومیکرون قسم کی جینوم سیکوئنسنگ کے بعد تصدیق کی گئی نے۔اس کے علاوہ مریض کے 10 رابطوں کا سراغ لگایا گیا اور بعد میں انھیں الگ تھلگ کردیا گیا ہے۔انھوں نے کہا کہ اومیکرون شکل کے منڈلاتے خطرات کے پیش نظرصحت کی ٹیمیں صورت حال سے نمٹنے کوتیار ہیں۔

ڈی ایچ او نے شہریوں پرزوردیا ہے کہ وہ کووِڈ-19 کے مروجہ معیاری طریق کارپرعمل کریں،ویکسین کی دونوں خوراکیں لگوائیں اور اہل ہونے پر تقویتی انجیکشن لگوائیں۔

اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر محمد حمزہ شفقات نے بھی اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ مریض کی کراچی سے سفرکی تاریخ ہے۔

گذشتہ منگل کے روز صوبہ بلوچستان میں کروناوائرس کی اومیکرون شکل کے 12 مشتبہ کیس رپورٹ ہوئے تھے۔ان کے نمونے جین سیکوئنسنگ کے بعد وائرس کی اس شکل کی موجودگی کی تصدیق کے لیے اسلام آباد میں قومی ادارہ صحت کو بھیجے گئے تھے۔

واضح رہے کہ پاکستان نے آٹھ دسمبر کو اومیکرون شکل کے پہلے مشتبہ کیس کی اطلاع دی تھی۔اس کی جین سیکوئنسنگ کے بعد آغاخان یونیورسٹی اسپتال نے 13 دسمبرکو اسے نیا ویرینٹ قراردیا تھا۔اس نےمزیدکہا تھا کہ اب تک اسپتال میں کسی اور مریض کے اومیکرون کا شکارہونے کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

18دسمبر کو محکمہ صحت کے ذرائع نے بتایا تھا کہ کراچی میں ایک 35سالہ شخص میں اس قسم کا ایک اور کیس سامنے آیاتھا۔وہ 8 دسمبر کو برطانیہ سے آیا تھا۔

گذشتہ ماہ وفاقی وزیرمنصوبہ بندی اسد عمر اور وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹرفیصل سلطان نے خطرے کی گھنٹی بجا دی تھی اور کہا تھا کہ اومیکرون شکل کی آمد ناگزیر ہے اوریہ اب وقت کی بات ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان نے 27 نومبرکو براعظم افریقا کے چھے ممالک جنوبی افریقا، لیسوتھو، ایسوٹینی، موزمبیق، بوٹسوانا اور نمیبیا کے علاوہ ہانگ کانگ کے سفر پر مکمل پابندی عاید کر دی تھی۔بعد ازاں اس سفری پابندی کو مزید نو ممالک کروشیا، ہنگری، نیدرلینڈز، یوکرین، آئرلینڈ، سلووینیا، ویت نام، پولینڈ اور زمبابوے تک بڑھا دیا گیا تھا۔

مزید برآں نیشنل کمانڈ اینڈ آپریٹنگ سنٹر نے امریکا، برطانیہ، جرمنی، ٹرینی ڈاڈ اینڈ ٹوباگو، آذربائیجان، میکسیکو، سری لنکا، روس، تھائی لینڈ، فرانس، آسٹریا، افغانستان اور ترکی پرکیٹیگری بی میں شامل کرلیا تھا۔

ان 13 ممالک کے تمام مسافروں کو مکمل ویکسین لگوانے کی ضرورت ہے جبکہ چھے سال سے زیادہ عمرکے ہر شخص کے پاس پی سی آر ٹیسٹ کی منفی رپورٹ ہونی چاہیے جو بورڈنگ سے 48 گھنٹے سے پہلے جاری نہ کی گئی ہو۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں