کوئٹہ:جناح روڈ پر دھماکا؛چار افراد جاں بحق، 15 زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پاکستان کے رقبے کے اعتبار سے سب سے بڑے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں جناح روڈ پر واقع سائنس کالج کے نزدیک دھماکا ہوا ہے جس کے نتیجے میں چار افراد جاں بحق اور 15 زخمی ہو گئے ہیں۔

بلوچستان کے محکمہ صحت کے میڈیا کوآرڈینیٹر ڈاکٹر وسیم بیگ نے واقعے کے فوری بعد ایک بیان میں ہلاکتوں کی تعداد کی تصدیق کی ہے۔

سول اسپتال کوئٹہ کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹرجاوید اختر نے ابتدائی طور پر بتایا تھا کہ تین لاشیں اور 13 زخمی افراد ان کے پاس اسپتال میں لائے گئے ہیں-انھوں نے دھماکے میں چار ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔

دریں اثنا وزیراعلیٰ بلوچستان کے مشیر برائے داخلہ و قبائلی امور میرضیاءاللہ لانگو نے بتایا کہ دھماکا ریموٹ کنٹرول ڈیوائس سے کیا گیا ہے۔انھوں نے دھماکے کی جگہ کا دورہ کیا اور جانی نقصان پرگہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

بلوچستان کے وزیراعلیٰ میرعبدالقدوس بزنجو نے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے اس کو’’دہشت گردی کی کارروائی‘‘ قرار دیا ہے۔ایک بیان میں بزنجو نے کہا کہ وہ ’’دہشت گردی کی کارروائی‘‘میں جانی نقصان پر افسردہ ہیں اور بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانے والے سخت سزا کے مستحق ہیں۔انھوں نے کوئٹہ میں سیکورٹی انتظامات پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔

وزیراعلیٰ نے بلوچستان کے انسپکٹر جنرل پولیس سے واقعے اور شہر میں سیکورٹی انتظامات کی رپورٹ بھی طلب کی ہے۔انھوں نے وزیراعلیٰ کے مشیر برائے داخلہ کو بھی ہدایت کی کہ وہ شہر کے لیے سیکورٹی پلان کا جائزہ لیں اور حفاظتی انتظامات کو مزید موثر بنائیں۔

انھوں نے کہا کہ پولیس اور سیکورٹی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کے جان و مال کا تحفظ کریں۔شہریوں کو دہشت گردوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔بزنجو نے زخمیوں کو مناسب طبی علاج کی فراہمی کو یقینی بنانے کی ہدایت بھی جاری کی ہے اور صوبائی وزیر صحت کو زخمیوں کےعلاج کی نگرانی کی ہدایت کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں