جسٹس عائشہ ملک عدالتِ عظمیٰ پاکستان میں پہلی خاتون جج مقرر،کمیشن نے منظوری دے دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پاکستان کے عدالتی کمیشن (جے سی پی) نے جمعرات کو لاہورہائی کورٹ کی جسٹس عائشہ اے ملک کو ترقی دے کرعدالتِ عظمیٰ میں جج مقرر کرنے کی منظوری دے دی ہے۔وہ عدالت عظمیٰ میں ملک کی پہلی خاتون جج ہوں گی۔

چیف جسٹس پاکستان گلزاراحمد نے جوڈیشیل کمیشن کے اجلاس کی صدارت کی۔اس میں جسٹس عائشہ ملک کے تقرر کو چار کے مقابلے میں پانچ ووٹوں کی اکثریت سے منظورکیا گیا ہے۔

عدالتی کمیشن نے جسٹس ملک کی ترقی کے بارے میں فیصلہ کرنے کے لیے دوسری مرتبہ یہ اجلاس منعقد کیا ہے۔گذشتہ سال 9ستمبر کو جے سی پی کے توسیعی اجلاس کے دوران میں ارکان میں ان کے تقرر پراتفاق رائے نہیں ہوسکا تھا اور کمیشن کومجبوراً ان کی ترقی کو مسترد کرنا پڑاتھا۔

اس اجلاس میں کمیشن کے چارارکان نے عدالتِ عالیہ لاہور کی چوتھی سینئر جج عائشہ ملک کوسپریم کورٹ میں ترقی دینے کی تجویز کی مخالفت کی تھی جبکہ اتنی ہی تعداد نے اس کی حمایت کی تھی۔

اس وقت سپریم کورٹ بارایسوسی ایشن کے صدر عبداللطیف آفریدی نے عدالت عظمیٰ میں ججوں کے تقررمیں سینیارٹی کے اصول کو نظرانداز کرنے پر شدید غم وغصے کا اظہار کیا تھا اور ملک گیراحتجاج کا مطالبہ کیا تھا۔

اس مرتبہ بھی جسٹس عائشہ ملک کے تقرر کے خلاف اسی جواز کی بنا پرتنقید کی گئی ہے۔قانونی برادری نے چیف جسٹس سے جمعرات کو کمیشن کاہونے والا اجلاس ملتوی کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔اجلاس ختم نہ ہونے کی صورت میں پاکستان بار کونسل (پی بی سی) اور تمام بار ایسوسی ایشنوں نے کہا کہ وہ اعلیٰ عدلیہ سے لے کر ماتحت عدالتوں تک تمام کارروائیوں کا بائیکاٹ کریں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں