مری، گلیات میں شدید برف باری کے باعث سیاحوں کا داخلہ عارضی طور پر بند

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

مری اور گلیات میں شدید برفباری اور ٹریفک کی خراب صورتحال کے باعث مقامی انتظامیہ نے سیاحوں کی گاڑیوں کو اسلام آباد سے ایکسپریس وے کے راستے مری جانے سے روکنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے سیاحوں سے اپیل کی ہے کہ وہ سیاحتی مقام کی جانب سفر سے فی الوقت گریز کریں۔

وفاقی وزیرداخلہ شیخ رشید احمد نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر بیان میں کہا کہ ‘برف باری کی وجہ سے اس وقت مری اور گلیات میں سیاحوں کا بے پناہ رش ہے اور تقریباً ایک لاکھ سے زائد گاڑیاں اسلام آباد کے راستے مری اور گلیات کی طرف جا چکی ہیں’۔ انہوں نے کہا کہ ‘اسلام آباد اور مری انتظامیہ عوامی سہولت کے لیے 24 گھنٹے سرگرم عمل ہے لیکن بڑھتے ہوئے عوامی رش کی وجہ سے مری کی جانب ٹریفک کی روانی انتہائی سست ہے’۔

وزیر داخلہ نے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ‘سیاحوں بالخصوص فیملیز سے اپیل ہے کہ وہ مری اور گلیات کی طرف سفر کرنے سے فی الحال گریز کریں’۔ انہوں نے کہا کہ ‘بڑھتے ہوئے رش کی بدولت سیاحوں کو مری اور گلیات کی طرف جانے سے عاضی طور پرروک دیا گیا ہے’۔

شیخ رشید کا کہنا تھا کہ ‘مری اور گلیات کی طرف جانے والے سیاحوں کو 17 میل انٹرچینج سے آگے جانے کی اجازت نہیں ہوگی، انتہائی ایمرجنسی کی صورت میں ہی شہریوں کو مری اور گلیات کی طرف سفر کرنے کی اجازت دی جائےگی’۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘اس فیصلے کا مقصد مری اور گلیات سے واپس اترنے والے سیاحوں کو سہولت فراہم کرنا ہے، فیملیز اور دیگر سیاحوں کو مری اور گلیات سے باحفاظت واپس اتارا جا رہا ہے’۔

ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے بھی بیان میں کہا کہ ‘اسلام آباد سے مری جانے والے روڈ مفاد عامہ کے طور پر بند کر دیے گئے ہیں کیونکہ ٹریفک جام اور لوگوں کا رش ہے’۔ انہوں نے کہا کہ ‘درخواست کی جاتی ہے اس وقت اپنے منصوبے ملتوی کریں، اسلام آباد سے جانے کی پابندی اتوار تک برقرار رہے گی’۔

ڈپٹی کمشنر راولپنڈی کا کہنا تھا کہ ‘مری میں اس وقت تک ایک لاکھ 25 ہزار سے زائد گاڑیاں داخل ہوچکی ہیں، مری میں مسلسل برف باری کا سلسلہ جاری ہے جس کی وجہ سے شہر میں بجلی کی سپلائی بھی تعطل کا شکار ہے’۔

دوسری جانب مری اور گلیات کے سفر کے حوالے سے مری کی ٹریفک پولیس نے بھی خبردار کیا ہے۔ جمعے کو مری ٹریفک پولیس کی جانب سے جاری ہونے والے ایک ریڈ الرٹ میں کہا گیا کہ اگلے چار سے چھ گھنٹوں میں بدترین صورت حال متوقع ہے۔

الرٹ کے مطابق مری اور گلیات میں شدید برف باری اور 50 سے 75 کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار سے تیز ہوائیں متوقع ہیں جن سے درختوں پر برف جمع ہونے اور ان کے گرنے کا خدشہ ہے۔

درایں اثنا ضلعی انتظامیہ راولپنڈی کے اعلان میں بتایا گیا ہے کہ مری میں ہزاروں گاڑیاں داخل ہو چکی ہیں اور مزید گاڑیاں داخلے کی منتظر ہیں۔ مری میں مزید سیاحوں کو داخل نہیں ہونے دیں گے۔ يہ فيصلہ مری ميں سياحوں کے رش اور ٹريفک جام کو مدِنظر رکھتے ہوۓ کيا گیا ہے۔

راولپنڈی انتظامیہ کے مطابق مری میں شدید برفباری میں ہزاروں سیاح پھنس چکے ہیں۔ شدید برفباری سے نمٹنے کے لیے ایمرجنسی نافذ کرکے سیاحوں کو ریسکیو کرنے کا آپریشن شروع کر دیا ہے۔ سیاحوں کی مدد کے لیے کنٹرول روم قائم کردیا ہے۔ سیاح کنٹرول روم نمبر 051-9269016 پر رابطہ کریں۔

خیال رہے کہ رواں ہفتے کے شروع میں ہی ملک بھر میں بارشیں اور پہاڑی علاقوں میں برف باری کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا، کراچی میں موسلا دھار باش ہوئی تھی اور بلوچستان میں میدانی علاقوں میں بارش اور پہاڑوں میں برف باری ہوئی تھی اور سیلاب بڑے پیمانے پر نقصانات ہوئے تھے۔

گلیات ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے ترجمان نے بتایا تھا کہ ایبٹ آباد، گلیات میں پانچویں مرتبہ برفباری کے دوران 2 انچ تک برف پڑھ چکی ہے اور اس سے متاثرہ شاہراہوں پر بھاری مشینری سے برف ہٹانے کا کام جاری ہے۔ ترجمان نے کہا تھا کہ سیاح برفباری کے دوران گاڑیوں کے پہیوں پر زنجیریں لپیٹے بغیر سفر کرنے سے اجتناب کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ برفباری رکتے ہی ایبٹ باد مری روڑ کو ٹریفک کے لیے بحال کر دیا جائے گا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق برفباری کا سلسلہ اگے تین دن تک جاری رہے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں