.

عدالت عالیہ کا مونال ریسٹورنٹ کو سیل، سی ڈی اے کو نیوی گالف کلب کا قبضہ لینے کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسلام آباد ہائی کورٹ نے مارگلہ نیشنل پارک میں قائم معروف ریسٹورنٹ مونال کو آج [بروز منگل] ہی سیل کرنے اور کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کو نیوی گالف کلب کا قبضہ لینے کا حکم دے دیا۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اطہر من اللہ نے وفاقی دارالحکومت میں تجاوزات اور قبضوں کے خلاف کیسز کی سماعت کی۔ وفاقی سیکریٹری دفاع لیفٹننٹ جنرل میاں ہلال حسین، سیکریٹری داخلہ اور چیئرمین کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) عامر علی احمد عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ مارگلہ ہلز نیشنل پارک پر اگر کوئی ملکیت کا دعوٰی کرتا ہے تو غلط ہے، نیشنل پارک محفوظ شدہ علاقہ ہے جو وفاقی حکومت کا ہے۔ عدالت نے کہا کہ مارگلہ نیشنل پارک کی 8 ہزار ایکڑ زمین پر ملٹری ڈائریکٹوریٹ کی ملکیت ختم ہو چکی۔ 1910 کا نوٹیفکیشن غیر موثر ہو چکا اب 1979 کے قانون کے تحت عمل ہو گا، یہ اسٹیٹ لینڈ ہے مارگلہ نیشنل پارک کے نام پر نوٹیفائی ہو چکی۔

نیوی نے تجاوزات کرکے گالف کورس بنایا، آرمڈ فورسز کو بھی قانون پر عمل کرنا ہوگا۔ ہر شہری آرمڈ فورسز کا احترام کرتا ہے لیکن جب تجاوزات کریں گے تو کیا پیغام جائے گا، جب یہ چیزیں رکیں گی عام آدمی خود قانون پر چلے گا، عام آدمی تو نیشنل پارک میں نہیں گھس سکتا، یہ اشرافیہ کی وجہ سے ہے، جب حکومت کے ادارے تجاوزات نہیں کریں گے تو پھر کسی اور کی بھی ہمت نہیں ہو گی۔

ہائیکورٹ نے نیوی گالف کورس کو آج ہی سی ڈی اے کے سپرد کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ سیکرٹری دفاع صاحب یقینی بنائیں کچھ ایسا نہ ہو بعد میں شرمندگی کا باعث بنے، آپ نے تسلیم کیا کہ گالف کورس غیر قانونی ہے اسے سربمہر کرکے انکوائری کریں۔

چیئرمن سی ڈی اے نے بتایا کہ ہم نے نیوی سیلنگ کلب گرانے کا نوٹس دے دیا ہے۔ اسلام آباد میں تقریبا تمام سرکاری اداروں نے تجاوز کیا ہوا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ تین فورسز کے سیکٹرز میں بھی تمام قوانین لاگو ہوتے ہیں، کیا عمل ہو رہا ہے؟ ایئر فورس نے جتنی تعمیرات کیں، کیا سی ڈی اے سے منظوری لی؟ ہو سکتا ہے کہ ان کے کچھ سیکورٹی تحفظات ہوں، سیکرٹری دفاع موجود ہیں، ان کے تحفظات بھی سن لیں اور قانون پر سختی سے عمل درآمد کرائیں، اسلام آباد میں فورسز کے تین سیکٹرز میں خلاف قانونی تعمیرات نہیں ہونی چاہئیں، ‏اسلام آباد مارگلہ ہلز ملٹری فارمز کی ملکیت نہیں بلکہ وفاقی حکومت کی ملکیت ہے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ہم سب کے سر شرم سے جھکنے چاہئیں کہ یونان کا ایک شخص یہاں آ کر ماحول کے تحفظ پر کام کرتا ہے۔

بعد ازاں عدالت نے چیف کمشنر اسلام آباد کو منگل کو ہی مونال کو سیل کرنے اور سی ڈی اے کو نیوی گالف کورس کو تحویل میں لینے کا حکم دیا۔ کارروائی کے دوران چیف جسٹس اطہر من اللہ نے حکام سے مونال کی قانونی حیثیت دریافت کرتے ہوئے کہا کہ میٹرو پولیٹن کارپوریشن کیسے نیشنل پارک میں داخل ہو سکتی ہے، اور اگر مونال کی لیز ختم ہو چکی ہے تو اسے سیل کیا جانا چاہیے۔ عدالت نے انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی کو تعمیرات کے سبب نقصان کا تخمینہ لگا کر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت بھی کی۔

مقبول خبریں اہم خبریں