سپریم کورٹ کی پہلی خاتون جج جسٹس عائشہ ملک نے عہدے کا حلف اٹھا لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

جسٹس عائشہ ملک نے پاکستان کی تاریخ میں سپریم کورٹ کی پہلی خاتون جج کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا ہے۔

سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس گلزار احمد نے جسٹس عائشہ ملک سےان کے عہدے کا حلف لیا۔ حلف برداری کی پروقار تقریب سپریم کورٹ میں منعقد ہوئی۔ تقریب میں سپریم کورٹ کے ججز، اٹارنی جنرل اور وکلاء کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

یاد رہے کہ صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی کی منظوری کے بعد وفاقی وزارت قانون اور انصاف نے لاہور ہائی کورٹ کی جسٹس عائشہ ملک کو سپریم کورٹ میں تعینات کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔

سپریم کورٹ کی ویب سائٹ کے مطابق جسٹس عائشہ ملک 1966 میں لاہور میں پیدا ہوئیں اور انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم پیرس اور نیویارک سے حاصل کیں اور پھر کراچی گرامر اسکول سے سینئر کیمبرج مکمل کیا۔ اس کے بعد انہوں نے فرانسس ہالینڈ سکول لندن سے اے لیول مکمل کیا۔ پھر لاہور میں پاکستان کالج آف لا سے قانون کی تعلیم حاصل کی اور پھر ایل ایل بی کرنے کے لیے ہارورڈ لا اسکول کیمبرج، میساچیوسٹیس، امریکا گئیں جہاں انہیں 1998-1999 میں لندن ایچ گیمن کی فیلو نامزد کیا گیا۔

جسٹس عائشہ ملک لاہورہائی کورٹ میں جج تعینات ہونے تک رضوی، عیسیٰ، آفریدی اور اینگل لا فرم کے ساتھ پہلے سینئر ایسوسی ایٹ اور پھر فرم کے لاہور دفتر میں انچارج کے طور پر کام کرتی رہیں۔ وہ 2012 میں لاہور ہائی کورٹ کی جج تعینات ہوئی تھیں اور اس وقت وہ چوتھی سینئر ترین جج کے طور پر کام کر رہی ہیں۔ انہیں بینکنگ، این جی اوز، مائیکرو فنانس اور اسکلز ٹریننگ پروگرامز کی ماہر وکیل تصور کیا جاتا ہے۔ انہوں نے تحقیقی کام کیا اور پنجاب یونیورسٹی میں بینکنگ لا پڑھایا اور کالج آف اکاؤنٹنگ اور مینیجمنٹ سائنسز کراچی میں مرکنٹائل لا پڑھاتی رہی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں