افغانستان کی سرزمین آج بھی پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے: معید یوسف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

پاکستان کی قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف نے جمعرات کو کہاہے کہ افغان سرزمین اب بھی پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔

ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق معید یوسف نے پاکستانی قانون سازوں کے ایک گروپ کو اسلام آباد میں بتایا کہ افغانستان میں منظم دہشت گرد نیٹ ورک اب بھی کام کر رہے ہیں۔

انہوں نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور کے ممبران کو اندرونی اور بیرونی سلامتی کی صورتحال پر بریفنگ دی۔ اجلاس کے بعد انہوں نے کہا کہ کمیٹی کے ارکان کے ساتھ قومی سلامتی پالیسی اور افغانستان کے بارے میں بہت نتیجہ خیز گفتگو ہوئی۔

افغانستان کے حوالے سے قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف نے کہا کہ پاکستان کی حکومت ہمسایہ شورش زدہ ملک میں طالبان کی حکومت کے بارے میں مکمل طور پر "پرامید" نہیں ہے۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے حوالے سے انہوں نے قانون سازوں کو بتایا کی ٹی ٹی پی نے یکطرفہ طور پر حکومت کے ساتھ ایک ماہ سے جاری جنگ بندی کے معاہدے کو توڑ دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کے خلاف اعلان جنگ کرنے والوں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔

واضح رہے کہ بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب خیبرپختونخوا کے جنوبی ضلع کرک اور ہنگو کے سرحدی علاقے میں تیل و گیس نکالنے والی غیر ملکی کمپنی کے کیمپ پر عسکریت پسندوں کے حملے میں ایک سیکیورٹی اہلکار ہلاک اور دوسرا اغوا کر لیا گیا ہے۔ جبکہ کالعدم شدت پسند تنظیم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے حملے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

پولیس حکام نے بھی واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ حملہ آور ایک اہلکار کو اپنے ہمراہ لے گئے ہیں۔

کرک پولیس نے حملے کا مقدمہ نامعلوم افراد کے خلاف درج کرلیا ہے اور ایک بیان میں کہا ہے کہ دہشت گردوں نے مول کمپنی کے ایک کنوے یا کمپاؤنڈ پر جدید خود کارہتھیاروں سے حملہ کیا جس کے بعد انہوں نے سولر پلانٹ کو ناکارہ بنا دیا۔

بیان کے مطابق حملہ آوروں نے کمپنی کے قریب موجود جھاڑیوں اور درختوں کو آگ بھی لگائی۔

خیبر پختونخوا کے تین جنوبی اضلاع کرک، ہنگو اور کوہاٹ میں غیر ملکی کمپنی 'MOL' گزشتہ کئی برسوں سے گیس اور تیل کے منصوبے پر کام کر رہی ہے۔ حال ہی میں کمپنی نے ہنگو کی تحصیل تھل سے ملحقہ علاقے اسپین وام میں تیل اور گیس کے ذخائر پر کام شروع کیا ہے۔

کالعدم شدت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے غیر ملکی کمپنی کی سائٹ پر حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اپنے بیان میں کہا ہے کہ حملے میں فرنٹیئر کور (ایف سی) کا ایک اہلکار جاں بحق اور ایک حوالدار کو اغوا کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں