تقسیم برصغیر کے وقت بھائی سے بچھڑنے والے سکا خان کو پاکستانی ویزہ جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

برِصغیر کی تقسیم کے وقت بچھڑنے والے اور رواں ماہ کی 12 تاریخ کو 75 سال بعد کرتارپور میں ملنے والے دو بھائیوں میں سے بھارت میں مقیم محمد حبیب عرف سکا خان کو پاکستان کے ہائی کمیشن نے ویزا جاری کر دیا ہے۔

محمد صدیق اور محمد حبیب عرف سکا خان برصغیر کی تقسیم کے وقت اس وقت بچھڑ گئے تھے جب جالندھر سے افراتفری میں ان کا خاندان پاکستان کے لیے روانہ ہوا تھا۔ ان کے والد ہلاک ہو گئے تھے۔ صدیق اپنی بہن کے ساتھ پاکستان پہنچ گئے جبکہ حبیب والدہ کے ساتھ وہیں رہ گئے جن کا بعد میں انتقال ہو گیا۔

حال ہی میں اپنے بھائی سے کرتارپور میں ملاقات کے بعد پنجاب کے ضلع فیصل آباد کے چک 255 کے رہائشی محمد صدیق نے کہا تھا کہ 'عمران خان سے کہتا ہوں کہ وہ بچھڑے ہوئے بھائیوں کو ملانے کے لیے میرے بھائی محمد حبیب کو پاکستان کا ویزا دے دے۔ زندگی کی آخری سانسیں ہم اکھٹے گزار لیں تو شاید ماں باپ، بہن بھائیوں سے بچھڑنے کا دکھ کچھ کم ہو سکے۔'

اب ان دونوں بھائیوں کے دل کی یہ مراد پوری ہو گئی ہے اور بھارت میں پاکستان کے ہائی کمیشن کی جانب سے سکا خان یعنی محمد حبیب کو پاکستان میں مقیم اپنے بھائی محمد صدیق اور خاندان کے دیگر افراد سے ملاقات کے لیے ویزے کا اجرا کر دیا گیا ہے۔

بھارت میں پاکستان کے ہائی کمیشن نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر محمد حبیب عرف سکا خان کی ایک تصویر شیئر کی جس پر ان کی ہاتھ میں پکڑے پاسپورٹ پر ویزے کی مہر لگی ہوئی ہے۔ انڈیا میں پاکستان ہائی کمیشن نے اس تصویر کے ساتھ تحریر کیا کہ 'آج (28 جنوری) کو سکا خان کو پاکستانی ہائی کمیشن کی جانب سے پاکستان اپنے بھائی محمد صدیق اور خاندان کے دیگر افراد سے ملاقات کے لیے ویزا جاری کر دیا گیا ہے۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں