جنگ گروپ کے مالک میرشکیل الرحمٰن ٹیکس چوری کے مقدمے میں برّی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

پاکستان کے دوسرے بڑے شہر لاہور میں ایک احتساب عدالت نے ملک کے بڑے آزاد میڈیا ادارے جنگ گروپ کے مدیراعلیٰ اور مالک میرشکیل الرحمٰن کوپیر کے روز اراضی کی خریداری میں ٹیکس چوری کے الزامات سے متعلق 35 سال پرانے مقدمے میں بری کردیا ہے۔جنگ گروپ ملک میں سب سے زیادہ اخبارات شائع کرتا ہے اور ٹیلی ویژن اسٹیشنوں کا مالک ہے۔

میر شکیل الرحمٰن کوحکام نے 2020ء میں تین دہائیوں سے زیادہ عرصہ قبل قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سرکاری اراضی خریدنے کے الزام میں گرفتارکیا تھا لیکن انھوں نے اپنے خلاف عاید ردہ الزام کی تردید کی تھی۔ان کے ملکیتی جیونیوز ٹیلی ویژن چینل کے ایک سینیرعہدہ دار راناجواد کے مطابق میر شکیل الرحمٰن کواحتساب عدالت نے اس مقدمے میں بری کردیا ہے۔اسی مقدمے میں ماخوذ دو سابق اعلیٰ سرکاری عہدے داروں کو بھی بری کردیا گیا ہے۔

میرشکیل کو گذشتہ سال ایک عدالت نے ضمانت دی تھی۔ان کا ملکیتی جنگ گروپ آف نیوزپیپرزوزیراعظم عمران خان کی حکومت پر تنقید کرتا رہا ہے اور اس گروپ کے جیوٹی وی کے ٹاک شوز میں اکثرحکومت کو اس کی پالیسیوں پر کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان کوصحافیوں کے کام کرنے کے حوالے سے دنیا کے خطرناک مقامات میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ملک میں مختلف گروپوں اور اداروں کی جانب سے صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنوں اورسول سوسائٹی کے ارکان کو ہراساں کیا جاتاہے۔

انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ 2018ءمیں منتخب ہونے والےعمران خان پاکستان میں آزادیِ اظہارکے تحفظ میں ناکام رہے ہیں۔وزیراعظم بننے سے پہلے عمران خان اکثرعوامی تقاریرمیں کہتے تھے کہ اگر وہ اقتدار میں آئے تو میرشکیل الرحمٰن کو گرفتار کرلیا جائے گا۔

مئی 2021 میں جیو ٹی وی نے معروف صحافی حامدمیرپر ملک کے طاقتورسکیورٹی اداروں کے اعلیٰ عہدے داروں پر تنقید کی پاداش میں ایک مقبول ٹاک شو کی میزبانی پر پابندی عاید کردی تھی۔اس کے بعد سے حامد میرآف ایئر ہیں۔جیو ٹی وی کی انتظامیہ نے ان کے خلاف یہ کارروائی ایک ریلی میں ان کی تندوتیز تقریر کے بعد کی تھی۔

انھوں نے اسلام آباد میں نامعلوم افراد کے تشدد کا نشانہ بننے والے صحافی اسدعلی طور کی حمایت میں نکالی گئی ایک ریلی میں یہ تقریرکی تھی۔اسد طورکے علاوہ معروف صحافی اور پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کے سابق چیئرمین ابصارعالم پروفاقی دارالحکومت ہی میں ایک پارک میں سیر کے دوران میں قاتلانہ حملہ کیا گیا تھا لیکن ان دونوں واقعات میں ملوّث کسی شخص کی گرفتاری عمل نہیں لائی گئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں