پشاور: نماز جمعہ کے دوران مسجد میں دھماکا، 56 افراد جاں بحق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پاکستان کے صوبے خیبرپختونخوا کے شہر پشاور کی مسجد میں ہونے والے خود کش دھماکے میں 56 افراد جاں بحق جب کہ 194 زخمی ہو گئے ہیں۔ دھماکہ قصہ خوانی بازار کے کوچہ رسالدار کی جامع مسجد میں ہوا۔

وفاقی وزیرِ داخلہ شیخ رشید احمد نے دھماکے کو خود کش قرار دیتے ہوئے کہا کہ دھماکے سے قبل کوئی تھریٹ الرٹ موجود نہیں تھا۔ اُنہوں نے کہا کہ ایک حملہ آور نے مسجد کے باہر ڈیوٹی پر مامور پولیس اہلکار کو گولی ماری اور بعد میں وہ مسجد میں داخل ہو گیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ یہ اندوہناک واقعہ ہے اور یہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب آسٹریلیا کی ٹیم 24 برس کے طویل وقفے کے بعد پاکستان میں ٹیسٹ میچ کھیل رہی ہے۔

پشاور پولیس نے تصدیق کی ہے کہ دو حملہ آوروں نے مسجد میں گھسنے کی کوشش کی اور اس سے قبل باہر موجود پولیس اہل کاروں کو نشانہ بنایا۔ پولیس حکام کے مطابق دھماکے میں پانچ سے چھ کلو گرام دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا۔

ایس ایس پی آپریشنز ہارون رشید نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ دہشت گردوں کی فائرنگ سے ایک پولیس کانسٹیبل ہلاک جب کہ دوسرا شدید زخمی ہوا۔ پشاور کے لیڈی ریڈنگ اسپتال کے ترجمان ترجمان عاصم خان نے دھماکے میں 56 ہلاکتوں کی تصدیق کر دی ہے۔

خیال رہے کہ قصہ خوانی بازار کا علاقہ ماضی میں بھی دہشت گردی کی کارروائیوں کا نشانہ بنتا رہا ہے۔ یہاں بڑی تعداد میں دکانیں اور ریستوران ہیں اور جمعے کو یہاں رش دیکھا جاتا ہے۔

خیبر پختونخوا حکومت کے معاونِ خصوصی برائے اطلاعات محمد علی سیف کا کہنا تھا کہ جمعے کو مساجد کی سکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے جاتے ہیں اور مذکورہ مسجد کے باہر بھی پولیس اہل کار تعینات تھے۔ تاہم اس کے باوجود یہ ناخوشگوار واقعہ پیش آیا۔

پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے پشاور دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے واقعے کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ عمران خان نے زخمیوں کو بہترین علاج معالجے کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے انتظامیہ کو ہدایات بھی جاری کر دی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں