بھارت وضاحت کرے،میاں چنوں میں کیا گرا؟:ڈی جی آئی ایس پی آر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

پاکستان کی مسلح افواج کے شعبہ تعلقات عامہ نے صوبہ پنجاب کے ضلع خانیوال میں بدھ کی شام تیز رفتار گرنے والی نامعلوم چیزکے بارے میں کچھ تفصیل جاری کی ہے اور بھارت سے اس سے متعلق وضاحت طلب کی ہے۔

انٹرسروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل،میجرجنرل بابرافتخار نے جمعرات کو راول پنڈی میں پریس کانفرنس میں میاں چنوں میں تباہ ہونے والی ایک بھارتی ’’تیزرفتاراڑنے والی چیز‘‘ سے آگاہ کیا ہے۔

اس سے پہلے یہ اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ خانیوال کی تحصیل میاں چنوں میں ایک نجی طیارہ گر کر تباہ ہوگیا ہے۔انھوں نے نیوزکانفرنس کے آغاز میں بتایا کہ 9 مارچ کو شام 6 بج کر43 منٹ پر پاک فضائیہ (پی اے ایف)کے ایئرڈیفنس آپریشنزسینٹر نے بھارتی حدود کے اندرتیز رفتار پروازکرنے والی چیزکا پتاچلایا تھا۔یہ ابتدائی راستے ہی سے انحراف کرکے پاکستان کی فضائی حدود میں داخل ہوگیا اور پاکستانی حدود میں گر گیا جس سے شہری تنصیبات کو کچھ نقصان پہنچا لیکن کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

انھوں نے کہا کہ پاک فضائیہ نے اس چیز کے خلاف ٹیکٹیکل آپریشن کیا ہے۔اس کے پرواز کے راستے سے پاکستان اور بھارت دونوں ملکوں میں عام شہریوں کو خطرہ لاحق ہو گیا تھا۔ بھارت کو وضاحت کرنی چاہیے کہ اس کی وجہ کیا ہے؛ اس سے اس کی ہوابازی پرناقص مہارت کی عکاسی ہوتی ہے۔انھوں نے کہا کہ پاکستان اس ’’کھلی خلاف ورزی‘‘پر شدیداحتجاج کرتا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ میاں چنوں میں کوئی حساس تنصیب نہیں تھی جہاں پراجیکٹائل گرا تھا۔ایک سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ ’’اس طرح کے ہتھیاروں کے نظام کی جانچ اور آزمائش ضرورہوتی رہتی ہے لیکن یہ کیا تھا،بھارت کواس کی وضاحت کرناہوگی‘‘۔

ترجمان نے کہا کہ یہ واقعہ بھارت میں ان پروگراموں پر کام کرنے والے انسانی وسائل کی مشکوک صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ اس کی ٹیکنالوجی پر بھی سوالیہ نشان ہے۔

اس چیز کے بارے میں مزید تفصیل پوچھے جانے پرانھوں نے کہا کہ’’ہم ابھی کچھ دعویٰ نہیں کررہے ہیں بلکہ ایک ذمہ دارقوم کی حیثیت سے ہم بھارت کے جواب کا انتظار کریں گے۔ہم نےاس وقت تک جو کچھ بھی جانتے ہیں،اس کی تفصیل بیان کی ہے لیکن یہ بھارتیوں کا کام ہے کہ وہ وضاحت کریں کہ میاں چنوں میں کیا گرکرتباہ ہواہے‘‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ہماری تمام مسلح افواج ہمیں درپیش خطرات اور چیلنجوں سے نبردآزما ہونے کے لیے ہمہ وقت چوکس ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں