اسلام آباد: فضائی حدود کی خلاف ورزی پر بھارتی ناظم الامور کی طلبی، تحقیقات کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

پاکستان نے بھارتی حدود سے ’نامعلوم سپر سونک شے‘ کی جانب سے پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر شدید احتجاج درج کرایا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ کے ترجمان کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق اسلام آباد میں بھارتی ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کیا گیا اور نامعلوم چیز کے ذریعے ملکی فضائی حدود کی بلا اشتعال خلاف ورزی پر شدید احتجاج کیا گیا۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ اس طرح کے غیر ذمہ دارانہ واقعات بھارت کی جانب سے فضائی حفاظت کو نظر انداز کرنے اور علاقائی امن و استحکام کے تئیں بے حسی کے بھی عکاس ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ ہم واقعے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں جس کےنتائج سے پاکستان کو بھی آگاہ کیا جائے۔

جمعرات کو راولپنڈی میں پریس کانفرنس سے خطاب میں ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ نومارچ کو ایک چیز انڈیا سے پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہوئی۔ پاکستان ائیرفورس نے اس کی مکمل مانیٹرنگ گی۔

پریس کانفرنس کے دوران ائیر وائس مارشل طارق ضیا نے اس واقعے کے بارے میں ملٹی میڈیا بریفنگ دی اور بتایا کہ یہ چیز میاں چنوں کے قریب گری جس سے سویلین کا کچھ نقصان بھی ہوا۔

انہوں نے اس واقعے تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ ’ہم نے نو مارچ کو شام چھ بج کر 33 منٹ ایک انڈین بارڈر کے 104 کلومیٹر اندر ایک چیز کو مانیٹر کیا۔ یہ چیز 40 ہزار فٹ بلندی پر اڑ رہی تھی۔ یہ انتہائی تیز رفتاری سے سفر کر رہی تھی۔‘

’یہ چیز 70 سے 80 کلومیٹر سفر کے بعد دائیں جانب مڑی اور اسی بلندی اور رفتار کے ساتھ شمالی مغرب میں پاکستان کی جانب بڑھنا شروع ہو گئی۔ پاکستان ائیر فورس اس چیز کو مسلسل مانیٹر کر رہی تھی۔‘

’اس کے بعد اس چیز نے انٹرنیشنل سرحد عبور کی اور یہ بھاولپور کے جنوب سے پاکستان میں داخل ہوئی۔ اور پھر یہ شام چھ بج کر پچاس منٹ پر میاں چنوں کے قریب غائب ہو گئی۔‘

’اس چیز نے پاکستان کی فضائی حدود میں 140 کلومیٹر تک کا فاصلہ طے کیا۔ اس نے شروع سے زمین پر گرنے تک مجموعی طور پر چھ منٹ 46 سیکنڈز دورانیے کا سفر کیا جبکہ یہ پاکستانی حدود میں تین منٹ 44 سیکنڈز تک رہی۔‘

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ پاکستان فضائی حدود کی اس خلاف ورزی کی مذمت کرتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں