بھارت جیسا غیر ذمہ دار ملک حساس ایٹمی صلاحیت کیسے رکھ سکتا ہے: معید یوسف

میزائل تکنیکی خرابی کے باعث پاکستان کی فضائی حدود میں داخل ہوا: بھارت کا اعتراف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے قومی سلامتی معید یوسف نے کہا ہے کہ ’بھارت کو یہ تسلیم کرنے میں دو دن لگ گئے کہ ’معمول کی دیکھ بھال کے دوران تکنیکی خرابی کی وجہ سے اس کا میزائل پاکستانی علاقے میں گر گیا۔‘

جمعے کو ایک ویڈیو بیان میں ان کا کہنا تھا کہ ’بھارت کے سپر سونک میزائل نے 40 ہزار فٹ کی بلندی پر پرواز کرتے ہوئے 250 کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا۔‘ ’بھارتی میزائل نے بین الاقوامی اور مقامی کمرشل جہازوں کے روٹس کے قریب سے پرواز کی جس سے مسافروں کی سلامتی کے لیے خطرات پیدا ہوئے۔‘

مشیر قومی سلامتی نے کہا کہ ’اس واقعے نے حساس ٹیکنالوجی رکھنے کی انڈین صلاحیت پر بھی سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں۔‘ ’یہ کیسا ملک ہے جس کا میزائل چل گیا اور وہ دو دن بعد وضاحت پیش کررہا ہے۔ انڈیا کی جانب سے میزائل غلطی سے فائر ہوجانے کی وضاحت بھی مشکوک ہے۔‘

معید یوسف کہتے ہیں کہ ’انڈیا کو اس واقعے پر پاکستان کو اعتماد میں لینے کی بھی توفیق نہیں ہوئی، یہ ایک بہت سنجیدہ معاملہ ہے عالمی برادری اس کا نوٹس لے۔‘ ’بدقسمتی سے پاکستان انڈیا جیسی ایک بدمعاش ریاست سے ڈیل کررہا ہے اور ہم بار بار دنیا کی توجہ انڈیا کے ناقص دفاعی نظام کی جانب دلاتے رہے ہیں۔‘ پاکستان کے مشیر قومی سلامتی کے مطابق ’انڈیا کے ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔‘

میزائل میں تکنیکی خرابی تھی: بھارت

اس سے قبل جمعہ ہی کے روز بھارتی وزارت دفاع نے میزائل پر افسوس کا اظہار کیا جو ’حادثی طور پر‘ پاکستان کی فضائی حدود میں داخل ہو۔ این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارتی حکام نے کہا کہ 9 مارچ کو میزائل پاکستان کے شہر خانیوال کے ضلع میاں چنوں کے علاقے میں گرا، اس واقعے کی وجہ ’تکنیکی خرابی‘ تھی۔

وزارت نے ایک بیان میں کہا کہ 9 مارچ 2022 کو معمول کی دیکھ بھال کے دوران ایک تکنیکی خرابی کی وجہ سے ایک میزائل حادثاتی طور پر فائر ہوا۔ معلوم ہوا ہے کہ میزائل پاکستان کے ایک علاقے میں گرا۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ حکومت نے سنجیدگی سے غور کیا ہے اور ایک اعلیٰ سطح کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ بھارتی وزارت نے کہا کہ یہ واقعہ ’انتہائی افسوسناک ہے لیکن یہ بھی اطمینان بخش بات ہے کہ حادثے کی وجہ سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل بابر افتخار نے پریس بریفنگ میں بتایا تھا کہ 9 مارچ کو 6 بج کر 33 منٹ پر بھارت سے پاکستانی حدود میں داخل ہونے والی ایک ‘شے’ نے فضائی حدود کی خلاف ورزی کی تھی۔

بھارتی میزائل کا روٹ
بھارتی میزائل کا روٹ

میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا ایئر فورس کے افسر نے بھارتی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا تھا کہ پاک فضائیہ نے اس مشکوک ’شے‘ کی مکمل نگرانی کی جو پاکستانی فضائی حدود میں 3 منٹ چند سیکنڈ میں رہی۔

پاکستان نے بھارتی ساختہ ’سپر سونک فلائنگ آبجیکٹ‘ کے ذریعے اپنی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر شدید احتجاج بھی ریکارڈ کرا دیا ہے۔ جمعے کو پاکستانی دفتر خارجہ نے بتایا کہ ’اسلام آباد میں انڈیا کے ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کیا گیا اور انڈین ساختہ ’سپر سونک فلائنگ آبجیکٹ‘ کے ذریعے پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر احتجاج ریکارڈ کرایا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں