اتحاد،انصاف،ترقی کے لیے شراکت: او آئی سی اجلاس اسلام آباد میں شروع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

پاکستان کی میزبانی میں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کی وزرائے خارجہ کونسل کا دو روزہ 48 واں اجلاس منگل سے اسلام آباد میں شروع ہو گیا ہے، جس میں 46 سے زیادہ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ، مبصرین اور مہمان شریک ہیں، تاہم افغان وزیر خارجہ نے شرکت سے معذرت کر لی۔

’اتحاد، انصاف اور ترقی‘ کے موضوع پر ہونے والے اس اجلاس کے افتتاحی سیشن سے وزیراعظم پاکستان عمران خان خطاب بھی کریں گے۔

اسلام آباد میں منعقد ہونے والے اجلاس میں کشمیر، فلسطین، اسلامو فوبیا، مسلم اُمّہ کے اتحاد سمیت مختلف مسائل و معاملات پر 140 کے قریب قراردادیں پیش کیے جانے کا امکان ہے۔

او آئی سی اجلاس میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین صورت حال کا جائزہ بھی لیا جائے گا۔

افغانستان نے پیر کو اجلاس شروع ہونے سے قبل ایک سرکاری بیان میں بتایا کہ ان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی ’ضروری مصروفیات‘ کی بنا پر اجلاس میں شرکت نہیں کر سکیں گے۔

بیان کے مطابق: ’وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی ترکی کے طویل ہمہ پہلو اور کامیاب دورے سے کل شام ہی اپنے ملک واپس لوٹے ہیں اور آتے ہی انتہائی ضروری سرکاری امور اور شوریٰ اجلاسوں میں مصروف ہوگئے ہیں۔‘

مزید کہا گیا کہ ان کی غیر حاضری میں ’امارت اسلامیہ کا موقر وفد او آئی سی اجلاس میں شرکت کے لیے اسلام آباد میں موجود ہے۔‘

بیان کے مطابق: ’او آئی سی نے حال ہی میں کابل میں اپنا دفتر کھولا ہے اور ان کے نمائندے افغان وزیرخارجہ، نائب وزیراعظم اول و دوم اور دیگر حکام سے ملاقاتیں کرچکے ہیں۔‘

بیان میں مزید کہا گیا کہ ’کچھ میڈیا اداروں اور صحافیوں نے ذاتی تجزیوں میں اس کی مختلف وجوہات کا تعین کرنے کی کوشش کی ہے، جو ان کی اپنی آرا ہیں۔‘

اجلاس میں شرکت کے لیے او آئی سی کے سیکریٹری جنرل، سعودی عرب، مصر اور چین کے وزرائے خارجہ سمیت کئی ممالک کے وزرائے خارجہ، نائب وزرائے خارجہ، نمائندگان خصوصی، عالمی اداروں کے سربراہان اور مندوبین پاکستان پہنچ چکے ہیں۔

گذشتہ روز پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ او آئی سی اجلاس کی تیاریاں مکمل ہوچکی ہیں اور اجلاس میں ’امہ کو درپیش سلگتے ہوئے معاملات‘ کو زیر بحث لایا جایا جائے گا۔

اوآئی سی کے اجلاس میں تجارتی اور اقتصادی روابط ایجنڈے کا اہم نکتہ ہیں۔ اجلاس میں عالمی صورتحال اور مسلم امہ کو درپیش چیلنجوں، باہمی یکجہتی، علاقائی امن اور ترقی پر غور کیا جائے گا۔

کانفرنس میں اہم عالمی و علاقائی امور پر غور و خوض سمیت فلسطین اور انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے لوگوں کے ساتھ اظہار یکجہتی اور ان کی دیرینہ حمایت کا اعادہ کیا جائے گا۔ اسلاموفوبیا کے مسئلے اور ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات پر بھی غور کیا جائے گا۔

کانفرنس میں انڈیا کے زیر انتظام جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی بڑھتی ہوئی خلاف ورزیوں کا جائزہ لیا جائے گا۔ اس موقع پر جموں وکشمیر سے متعلق اسلامی تعاون تنظیم کے رابطہ گروپ کا وزارتی اجلاس بھی ہوگا۔

پاکستانی دفتر خارجہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق گذشتہ روز وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور اسلامی تعاون تنظیم کے سیکریٹری جنرل حسین براہیم طحہ کی اسلام آباد آمد کے موقع پر ملاقات ہوئی تھی جس میں اجلاس کے ایجنڈے اور ممکنہ نتائج پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔

اس اجلاس میں او آئی سی کی سربراہی ایک سال کے لیے پاکستان کو منتقل ہو جائے گی۔ تنظیم کے سیکریٹری جنرل نے پاکستانی وزیر خارجہ کو تنظیم کی سربراہی سنبھالنے پر مکمل تعاون کا یقین دلایا ہے۔

پیر کو پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے میں او آئی سی کے اجلاس میں شرکت کرنے والے وزرائے خارجہ اور وفود کو خوش آمدید کہا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر وزیراعظم نے لکھا کہ ’میں اسلام آباد میں 48 ویں او آئی سی کانفرنس میں شرکت کرنے والے مبصرین، شراکت داروں اور تمام وزرائے خارجہ اور وفود کو خوش آمدید کہتا ہوں۔ اتحاد، انصاف اور ترقی کے موضوع کے تحت او آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس میں تفصیلی بات چیت ہوگی۔ آپ کی موجودگی پاکستانی شہریوں کے لیے باعث فخر ہے۔‘

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں