او آئی سی دو ارب مسلمانوں کی اجتماعی آواز: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اجلاس کے ابتدائی بیان میں شرکا کو خوش آمدید کہتے ہوئے اجلاس کے انعقاد کو پاکستان کے لیے ایک اعزاز قرار دیا۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ ’او آئی سی تقریباً دو ارب مسلمانوں کی اجتماعی آواز ہے۔‘

انہوں نے بیان کے دوران او آئی سی کی کچھ کامیابیوں کا ذکر کیا، جن میں افغانستان میں خوراک اور سکیورٹی فنڈ کا آغاز بھی شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے اسلاموفوبیا کے خلاف آواز اٹھائی، جس پر اقوام متحدہ نے 15 مارچ کو اسلاموفوبیا کے خلاف دن کا اعلان کیا۔

وزیر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان او آئی سی کے کردار کو مزید مضبوط کرنے کا خواہاں ہے۔ ’او آئی سی مسلم امہ کے اتحاد اور یکجہتی کے لیے کام کر رہی ہے۔‘

شاہ محمود نے تجویز دی کہ 23-2022 میں وزارتی سطح کے ایک اجلاس کا انعقاد کیا جائے، جس میں مسلم امہ کے حوالے سے امن اور سکیورٹی کے ڈھانچے پر غور کیا جائے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ کشمیر اور فلسطین کے عوام کو حق خودارادیت نہیں مل رہا۔ ’ہمیں غیرملکی مداخلت ختم اور تنازعات کو حل کرنا ہوگا۔‘

انہوں نے اپنے بیان میں مسلم امہ کے اندر تنازعات ختم کرنے اور اتحاد کے لیے اشتراک، اسلاموفوبیا کے خاتمے کے لیے مل کر کردار ادا کرنے، کرونا وبا کے خاتمے اور معاشی گراوٹ سے نکلنے اور ترقی کے لیے کام کرنے کے حوالے سے کچھ تجاویز بھی دیں۔

او آئی سی وزارتی کونسل کی چیئرمین شپ پاکستان کے سپرد

اسلامی تعاون تنظیم کے آغاز کے ساتھ ہی نائیجر کے وزیر خارجہ اور او آئی سی وزارتی کونسل کے موجود صدر حسومی مسعودو نے خطاب کرتے ہوئے وزارتی کونسل کی چیئرمین شپ پاکستان کے سپرد کردی جبکہ فلسطین، یمن اور کیمرون نائب چیئرمین ہوں گے۔

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ او آئی سی کے ترقی کو ایجنڈے کو آگے بڑھانا ہو گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں