عالمی سطح پر اسلاموفوبیا کو حقیقت تسلیم کرنا بڑی کامیابی ہے: عمران خان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے وزرائے خارجہ کونسل کا 48 ویں اجلاس سے خطاب کے دوران کہا کہ عالمی سطح پر اسلاموفوبیا کو حقیقت تسلیم کرنا بڑی کامیابی ہے۔

’’مسلم ممالک کو اپنی خارجہ پالیسی میں کور ایشوز پر متفق ہو کر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ نائن الیون کے بعد دہشت گردی کو اسلام سے جوڑا گیا۔ اسلام کا کسی طور بھی دہشت گردی سے تعلق نہیں۔ اسلامو فوبیا ایک حقیقت ہے۔ ہمیں اپنا بیانیہ آگے بڑھانا ہوگا۔ عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے باوجود فلسطین اور کشمیر کے مسلمانوں کو ان کے بنیادی حق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ روس یوکرین جنگ میں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) ثالث کا کردار ادا کر سکتی ہے۔ اس تنازعہ سے دنیا میں پٹرول اور گندم کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔‘‘

ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو یہاں پارلیمنٹ ہاؤس میں او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے 48 ویں اجلاس کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں اسلامی تعاون تنظیم کے رکن ملکوں کے وزرائے خارجہ اور اعلیٰ اختیاراتی وفود کے علاوہ او آئی سی کے سیکرٹری جنرل حسین ابراہیم طحہٰ، چین کے وزیر خارجہ وانگ یی اور اسلامی ترقیاتی بینک کے چیئرمین نے بھی شرکت کی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ دنیاکے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کو کسی بلاک میں تقسیم اور تنازعات میں الجھنے کی بجائے امن کے لئے اپنی طاقت ظاہر کرنی چاہیے۔ بنیادی ایشوز پر او آئی سی کو ایک متحدہ فرنٹ بنانا ہو گا۔ ہم تنازعہ کے نہیں امن کے شراکت دار ہیں۔ دنیا میں اسلام صرف ایک ہی ہے۔ اسلامی اقدار کو جس قدر خطرات اس وقت ہیں ماضی میں نہیں تھے، ان کے تحفظ کے لئے اقدامات کرنا ہوں گے۔

اسلامی تعاون تنظیم وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس کا موضوع ”اتحاد، انصاف اور ترقی کے لئے شراکت داری“ تھا۔ دو روزہ اجلاس میں او آئی سی کے رکن ملکوں اور مبصر ممالک کے وزرائے خارجہ اور اعلیٰ سطح کے وفود شرکت کر رہے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے کہاکہ 15 مارچ کو اسلاموفوبیا کے خلاف عالمی دن منائے جانے کی قرار داد کی اقوام متحدہ سے منظوری ایک بڑی کامیابی ہے۔ 15 مارچ کو نیوزی لینڈ میں ایک مسلح شخص نے مسجد میں داخل ہو کر 50 مسلمانوں کو شہید کیا۔ نائن الیون کے بعد اسلام کو دہشت گردی سے جوڑا گیا۔ اس وقت مسلم ممالک کے حکمرانوں نے اس پر ٹھوس موقف اختیار کرنے کی بجائے خود کو روشن خیال اور اعتدال پسند قرار دیا۔ اسلام کو دہشت گردی سے جوڑنے کے عمل سے سب سے زیادہ مغرب میں مسلمان متاثر ہوئے۔ وہاں ہر دہشت گردی کے بعد فوری الزام اسلام پر لگایا جانے لگا۔

انہوں نے کہا کہ کوئی معاشرہ کیسے چند جنونیوں کی حرکت کا ذمہ دار ہو سکتا ہے۔ پہلی مرتبہ یہ تسلیم کیا گیا کہ اسلاموفوبیا ایک نفرت انگیز چیز ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ جن ممالک نے ریاست مدینہ کے اصول اپنائے انہوں نے خوشحالی پائی۔ ریاست مدینہ کا قیام دنیا کا بڑا انقلاب تھا۔ نبی پاکﷺ صرف مسلمانوں کے لئے نہیں بلکہ پوری امت کے لئے رحمت اللعالمین تھے۔

وزیرِ اعظم نے کہا کہ افغانستان سنگین انسانی بحران کے دہانے پر کھڑا ہے جس سے عالمی دہشت گردی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔ افغان حکومت کی مدد اور انہیں مستحکم کرنا ہوگا۔ کشمیر میں آبادی کا تناسب بدلنا ایک جنگی جرم ہے۔ ہم نے فلسطین اور کشمیر کے مسلمانوں کو مایوس کیا۔ کشمیر پر عالمی برادری نے حقِ خود ارادیت کی حمایت کی لیکن عمل نہ ہو سکا۔ بھارت کشمیر میں باہر سے لوگوں کو لا کر مسلمانوں کو اقلیت بنا رہا ہے۔ یہ جنگی جرم ہے۔ دنیا میں آج غریب ممالک طاقتور کرپٹ کے خلاف کارروائی نہیں کر سکتے جبکہ آج مغرب میں انسان تو کیا جانوروں کے حقوق کا بھی خیال رکھا جاتا ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ترقی پزیر ممالک میں غربت وسائل کی کمی سے نہیں کرپشن کے باعث ہے۔ قائد اعظم اس ملک کو اصل ریاست مدینہ بنانا چاہتے تھے۔ سوئٹزر لینڈ اپنے 99 فیصد وسائل نہ ہونے کے باوجود دنیا کا خوشحال ملک ہے۔ وزیراعظم نے کہاکہ خواتین کو ان کا حق دیا جانا نبی اکرم خاتم النبیینﷺ کی جانب سے ایک انقلابی قدم تھا۔ اپنے خطاب میں عمران خان نے خواتین کے حقوق سمیت دیگر امور پر بھی بات کی۔ بدقسمتی سے پاکستان میں 70 فیصد خواتین کو وراثت میں حق نہیں دیا جاتا۔ ہم نے اس حوالے سے قانون سازی کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں