حوثیوں کی جارحیت خطے کے امن کے لیے خطرہ ہے : سعودی وزیر خارجہ

’’سعودی عرب او آئی سی رکن ممالک میں بھائی چارے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے‘‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فيصل بن فرحان نے منگل کے روز ایک بار پھر حوثی ملیشیا پر دباؤ کی ضرورت کو باور کرایا ہے تا کہ بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے ان کے خطرہ بننے کو روکا جا سکے۔

پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد میں اسلامی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سعودی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ حوثی ملیشیا کی جارحیت پورے خطے کے امن و استحکام کو خطرے سے دوچار کر رہی ہے۔

شہزادہ فرحان نے اُن موضوعات پر بھی روشنی ڈالی جو دو روزہ اجلاس کے دوران میں شریک وزرائے خارجہ کے بیچ زیر بحث آئیں گے۔ ان میں افغانستان کا معاملہ شامل ہے۔

واضح رہے کہ گذشتہ دو روز میں حوثی ملیشیا کی جانب سے سنگین خلاف ورزیوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ اس دوران میں سعودی عرب میں شہری اور تیل کی تنصیبات کو حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔

سعودی وزارت خارجہ کے ذرائع نے باور کرایا ہے کہ حوثی ملیشیا کی جانب سے مملکت میں تیل کی تنصیبات پر دہشت گرد حملوں کے جلو میں سعودی عرب عالمی منڈی کے لیے پٹرول کی ترسیل میں کسی بھی قلت کا ذمے دار نہ ہو گا۔

یمن میں آئینی حکومت کی حمایت کرنے والے عرب اتحاد نے اتوار کے روز بتایا تھا کہ اس نے جازان ، خمیس مشیط ، طائف، ینبع اور ظہران کی سمت بھیجے گئے 9 ڈرون طیاروں کو مار گرایا۔ ان طیاروں کے ذریعے ہدف بنائے گئے مقامات میں خمیس مشیط میں گیس اسٹیشن اور ظہران میں بجلی کا ایک پاور اسٹیشن شامل ہے۔ ایران نواز حوثیوں نے جازان میں ارامکو کے ایک تقسیمی اسٹیشن اور شقیق میں پانی صاف کرنے کے اسٹیشن کو ایرانی کروز میزائلوں کے ذریعے نشانہ بنایا۔

افغانستان، فلسطین اور کشمیر

سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود نے او آئی سی کے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ سعودی عرب افغانستان، فلسطین اور جموں و کشمیر کے لوگوں کی حمایت کرتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میں اسلاموفوبیا سے نمٹنے کے لیے دن منانے پر پاکستان اور اس کے رہنماؤں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اور اس معاملے میں مزید کامیابیاں سمیٹنے میں زیادہ کوششیں درکار ہوں گی۔‘

سعودی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ’سعودی عرب کی او آئی سی کے ممبر ممالک میں بھائی چارہ قائم رکھنے کی پالیسی واضح ہے۔‘

ان کے مطابق: ’گذشتہ دسمبر میں افغانستان کے معاملے پر کامیاب اجلاس ہوا، جس میں ہیومینیٹیرین ٹرسٹ فنڈ کا قیام عمل میں آیا جو کہ اس اجلاس کی کامیابی تھی اور طاقر خطیب کو اس فنڈ کا نمائندہ بنایا گیا تھا۔‘

افغانستان کے معاملے پر شہزادہ فیصل بن فرحان السعود کا کہنا تھا کہ ’مملکت افغانستان کے امن و ترقی میں اسلامی ممالک کے کردار اور ان کی مدد کا اعادہ کرتی ہے اور ہم اس معاملے میں اپنی مزید مدد جاری رکھیں گے تاکہ افغان شہری اس بحرانی صورتحال پر قابو پا سکیں۔‘

انہوں نے امید ظاہر کی افغانستان میں مختلف برادریاں تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کریں گی اور افغانستان کی سرزمین کو کسی دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گی۔

سعودی وزیر خارجہ نے اہنے خطاب میں کہا کہ ’ہم فلسطینی موقف کی مرکزیت کی حمایت کرتے ہیں۔ ہم فریقین کے درمیان تنازعے کے خاتمے کے ہر ممکن مدد کو تیار ہیں اور عالمی اداروں کی قراردادوں کی روشنی میں ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے موقف کی حمایت کرتے ہیں۔‘

شہزادہ فیصل نے کہا کہ ’ہم جموں و کشمیر کے لوگوں کی مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہیں اور عالمی کوششوں کو سراہتے ہیں کو مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے کی گئی ہیں۔‘

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں