پاکستانی وزیراعظم عمران خان کا امریکا پراپنی حکومت گرانے کی سازش کا الزام

نوجوان حکومت کے خلاف تیارکردہ مبیّنہ’’غیرملکی سازش‘‘کے خلاف’پُرامن احتجاج‘کریں: نشری گفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے ہفتے کے روز کہا کہ انھیں اقتدار سے ہٹانے کا اقدام امریکا کی حمایت سے کیا جارہا ہے اور اس کی معاونت سے ان کی حکومت کی تبدیلی کی کوشش کی جارہی ہے۔

عمران خان کے خلاف متحدہ حزب اختلاف نےقومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد پیش کررکھی ہے۔اس پر اتوار کو رائے شماری ہوگی۔حزب اختلاف کا دعویٰ ہے کہ اسے وزیراعظم عمران خان کو ہٹانے کے لیے قومی اسمبلی میں سادہ اکثریت حاصل ہے اور اس نے دو روز پہلے 342 کے ایوان میں اپنے 174 ارکان ظاہر بھی کردیے تھے۔

عمران خان نے غیرملکی صحافیوں کے ایک گروپ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "مجھے بے دخل کرنے کا اقدام امریکا کی جانب سے پاکستان کی اندرونی سیاست میں کھلم کھلا مداخلت ہے‘‘۔

دوسری جانب امریکی حکام وزیراعظم عمران خان کے الزامات کی تردید کرچکے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ایسے الزامات میں کوئی صداقت نہیں۔وائٹ ہاؤس نے اس بات کی بھی تردید کی ہے کہ امریکا گزشتہ دنوں اسی طرح کے الزامات کے بعد عمران خان کو وزارت عظمیٰ کے عہدے سےہٹانے کی کوشش کر رہا ہے۔

دریں اثناء وزیر اعظم عمران خان نے ملک کے نوجوانوں پر زور دیا ہے کہ وہ ان کی حکومت کے خلاف تیار کردہ مبیّنہ ’’غیرملکی سازش‘‘کے خلاف ’’پرامن احتجاج‘‘ کریں۔انھوں نے کہا کہ قومی اسمبلی میں ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پراتوار کو ہونے والے اہم ووٹ کے موقع پران کے پاس ’’ایک سے زیادہ منصوبے‘‘ ہیں۔


وزیر اعظم نے یہ تبصرہ شام کے براہ راست سوال و جواب نشست کے دوران میں کیا گیا ہے۔ان کی یہ گفتگو ٹیلی ویژن، ریڈیو اور ڈیجیٹل میڈیا پر براہ راست نشر کی گئی ہے۔

وزیراعظم نے اپنے افتتاحی کلمات میں کہاکہ اس وقت پاکستان فیصلہ کن مرحلے پرکھڑا ہے۔یہ ملک کے مستقبل کے لیے جنگ ہے۔ہم دو راستے اختیار کر سکتے ہیں۔ کیا ہم تباہی کا راستہ اختیار کرناچاہتے ہیں یا فخر کا راستہ اختیار کرنا چاہتے ہیں؟ اس راستے میں مشکلات ہوں گی لیکن یہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا راستہ ہے۔ یہ راستہ ہماری بھلائی کے لیے ہے۔ اس راستے نے ملک میں انقلاب برپا کردیا۔

اس کے بعد وزیراعظم نےملک کے سیاسی بحران پرتبادلہ خیال کیا:’’پاکستان کی سیاست آج اس مقام پر پہنچ چکی ہے جہاں قوم کو فیصلہ کرنا ہے کہ آپ آج ملک کو کہاں لے جانا چاہتے ہیں۔ایک ایسا معاشرہ جو ایمانداری اور انصاف کے ساتھ کھڑا ہے،ایک نئی زندگی لیتا ہے لیکن جب کوئی معاشرہ غیر جانبدارہوجاتا ہے تو وہ برائی کی حمایت شروع کردیتاہے۔

انھوں نے اس الزام کا اعادہ کیا ہے کہ اس وقت ان کی حکومت کے خلاف سازش ہو رہی ہے اور یہ ثابت ہوچکا ہے کہ سیاست دانوں کو حکومت گرانے کے لیے بکریوں کی طرح خریدا جارہا ہے۔ یہ سازش بیرون ملک شروع ہوئی اور یہاں بیٹھے میرصادق بیرون ملک لوگوں کی کی اس ضمن میں مدد کررہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں