عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ آج ہو رہی ہے

وزیر اعظم نے ملک کے نوجوانوں کو مبینہ سازش کے خلاف سڑکوں پر نکلنے کی کال دے دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

پاکستان کی متحدہ اپوزیشن وزیراعظم عمران کی حکومت کی بساط الٹنے کے لیے آج قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کے لیے تیار ہے جبکہ وزیر اعظم نے ملک میں نوجوانوں کو احتجاجی مظاہرے کرنے کی اپیل کی ہے۔

وزیراعظم عمران خان اور اپوزیشن دونوں کو ہی ووٹنگ کا پانسہ اپنے حق میں پلٹنے کے لیے 172 اراکین کی حمایت درکار ہے۔

بظاہر نظر آتا ہے کہ عمران خان یہ سادہ اکثریت کھوچکے ہیں کیونکہ ان کے بہت سے اتحادی اس وقت اپوزیشن کی صفوں میں موجود ہیں۔

دوسری جانب حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کو منحرف اراکین کی ناراضی کا بھی سامنا ہے، جن کی ’قسمت کے فیصلے‘ یعنی آرٹیکل 63 اے کی وضاحت کے لیے سپریم کورٹ میں ایک صدارتی ریفرنس بھی زیر سماعت ہے۔

احتجاج کی کال

قبل ازیں وزیراعظم عمران خان نے ٹیلی فون پر عوام سے بات کرنے کے حوالے سے ‘آپ کا وزیراعظم آپ کے ساتھ’ کے عنوان سے نشر ہونے والے پروگرام میں وزیراعظم عمران خان نے ملک کے نوجوانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ حکومت کے خلاف ہونے والی مبینہ سازش پر سڑکوں پر نکلیں اور پُرامن احتجاج کریں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت پاکستان ایک فیصلہ کن وقت پر کھڑا ہے، اس میں آپ کا مستقبل کہ کس طرح کا پاکستان بنے گا’۔

وزیراعظم نے کہا کہ ‘سیاست دانوں کی بکروں کی طرح نیلامی ہورہی ہے جو ملک کی قیادت ہے، ایک حکومت گرانے کے لیے ان کو خریدا جارہا ہے، باہر سے سازش شروع ہوئی، یہاں ذاتی مفادات کے لیے ان کے ساتھ مل کر سودا کرنے کے لیے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘نوجوانوں کے لیے خاص طور پر کہ آپ کے پاس یہ نہیں ہے کہ آپ چپ کرکے بیٹھ جائیں، آپ کو فیصلہ کرنا ہے کہ اچھائی کدھر ہے اور برائی کدھر ہے’۔

وزیراعظم نے کہا کہ ‘اگر آپ چپ کرکے بیٹھیں گے تو آپ برائی کا ساتھ دیں گے، میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ سب احتجاج کریں، آپ سب اپنی آواز بلند کریں، یہ جو سازش ہورہی ہے، میرے لیے نہیں اپنے مستقبل کے لیے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘اگر یہ کامیاب ہوجاتے ہیں تو کیا ہوگا، اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی باہر کی قوت کو ملک کی قیادت، وزیر اعظم پسند نہ ہو تو کیا وہ 15،20 ارب روپے خرچ کرکے حکومت گرا دے گا’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ایک جوہری قوت پاکستان کی قیادت تبدیل ہوسکتی ہے، باہر کی قوت تھوڑے پیسے ضمیر فروشوں کو دے اور ان کو بکروں کی طرح خریدے اور حکومت گرادے تو اس ملک کا کوئی مستقبل نہیں ہے’۔

اپنی بات جاری رکھتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ‘نوجوانوں کو اس لیے کہہ رہا ہوں کہ اس پاکستان میں تو آپ کا کوئی مستقبل نہیں ہے، اس لیے جو زیادہ پڑھ لکھ لیتا ہے باہر جاتا ہے لیکن یہ آپ کا ملک ہے، اس کے لیے آپ کو لڑنا پڑے گا’۔

مقبول خبریں اہم خبریں