عدالتِ عظمیٰ کے حکم پرعدم اعتماد تحریک پرآج رائے شماری ہو گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

پاکستان کی عدالتِ عظمیٰ نے جمعرات کو وزیراعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد پر ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ اور اس کے بعد وزیراعظم کے مشورے پر صدر کی جانب سے قومی اسمبلی کو تحلیل کرنے کے فیصلے کو مسترد کردیا ہے اور انھیں آئین اور قانون کے منافی قراردیا ہے۔عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس عمرعطابندیال کی سربراہی میں پانچ جج صاحبان پر مشتمل بینچ نے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ اور مابعد اقدامات کے خلاف متفقہ فیصلہ دیا ہے۔

عدالت نے اپنے مختصر حکم میں کہا ہے کہ ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ’’آئین اور قانون کے خلاف ہے اور اس کا کوئی قانونی اثر نہیں۔اس لیے اس کو طاق نسیاں پر رکھاجاتا ہے‘‘۔

عدالتِ عظمیٰ نے قرار دیا کہ صدر ڈاکٹر عارف علوی کا قومی اسمبلی کو تحلیل کرنے کا فیصلہ بھی آئین اور قانون کے منافی ہے اور اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔نیز وزیر اعظم صدرکواسمبلی تحلیل کرنے کا مشورہ نہیں دے سکتے تھے کیونکہ وہ آئین کے آرٹیکل 58 کی شق (1) کے تحت عایدقدغن کے پابند تھے۔

مختصر حکم نامے میں کہاگیا ہے کہ’’یہ مزید اعلان کیا جاتاہے کہ (قومی)اسمبلی ہر وقت موجود تھی اور اب بھی برقرار اور موجود ہے‘‘۔

عدالت کے فیصلے نے وزیراعظم اور ان کی کابینہ کو ان کی سابقہ پوزیشن میں بحال کردیا ہے۔اس کے تحت وزیراعظم اور وفاقی وزرا، وزرائے مملکت، مشیر وغیرہ اپنے اپنے دفاتر میں بحال ہوگئے ہیں۔

قومی اسمبلی کااجلاس بلانے کا حکم

سپریم کورٹ نے قومی اسمبلی کا اجلاس ہفتہ نو اپریل کو صبح ساڑھے دس بجے دوبارہ بلانے کا حکم دیا ہے اور قرار دیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے اختتام کے بغیر اجلاس کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔

چیف جسٹس عمرعطابندیال نے فیصلے کے اعلان میں کہا کہ ڈپٹی اسپیکر کے 3 اپریل کے فیصلے کو غیر آئینی قرار دیا جاتا ہے۔انھوں نے کہا کہ ججوں کے ساتھ مشاورت کے بعد فیصلے کا اعلان 5-0 کے متفقہ سمجھوتے کے ساتھ کیا گیا اور اس ضمن میں دائرکردہ تمام درخواستوں کو نمٹادیا گیا ہے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ حکومت اسمبلی اجلاس میں کسی رکن کی شرکت میں مداخلت نہیں کرسکتی اور کسی رکن کو عدم اعتماد کی قرارداد پر رائے شماری میں حصہ لینےسے روکا نہیں جائے گا۔

عدالت نے کہا کہ موجودہ حکم سے آئین کےآرٹیکل 63 کے تحت کارروائی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔تاہم یہ واضح کیا گیا ہے کہ اس مختصر ترتیب میں کوئی بھی چیزآئین کے آرٹیکل 63 اے کے آپریشن اور اس کے نتائج پراثرانداز نہیں ہوگی، اگر کوئی رکن قرارداد پر ووٹ دیتا ہے یا (اگر ایسا ہے تو) اس کے بعد وزیراعظم کے انتخاب میں وہ حصہ لیتا ہے تواس کا فعل اپنی سیاسی جماعت سے انحراف یاپارٹی بدلنے کے مترادف ہے اور ایسا کوئی فعل مذکورہ آرٹیکل کے مفہوم سے متعلق ہے۔

جمہوریت اور آئین کی فتح

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے فیصلے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عدالت نے یقینی طور پرعوام کی توقعات پوری کی ہیں،عوام کی خواہشات کی ترجمانی کی اور عدلیہ کی آزادی کو چارچاند لگادیےہیں اور متحدہ اپوزیشن نے ایک بڑا معرکہ سر کرلیا ہے۔

عدالت کے بڑے فیصلے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شہبازشریف نے کہا کہ پاکستان کے 22 کروڑعوام کی دعائیں اللہ نے قبول کیں، عدالتِ عظمی نے ایسا فیصلہ دیا جس سے نہ صرف پاکستان کا آئین بلکہ پاکستان بچ گیا ہے۔

مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے کہا کہ ہم عدالت کے شکر گزار ہیں کہ انھوں نے متفقہ فیصلہ دے کر پاکستان کے عوام کی خواہشات کی عکاسی کی،پارلیمان کی خود مختاری کو مضبوط کیا اور آئین کے تقدس کو بحال کیا۔

انھوں نے کہا کہ اب ہم مل کر غربت اور مہنگائی کے خلاف جنگ لڑیں گے۔ایک صحافی نے ان سے سوال پوچھا کہ کیا وہ آئین توڑنے والوں کے خلاف کارروائی کریں گے؟ اس پر شہبازشریف نے کہا کہ عدالت عظمی کا فیصلہ پڑھ کر بتائیں گے کہ کیا اقدام کرنا ہے۔

پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ اب عدالتی فیصلے کے بعد جمعہ کویوم تحفظ آئین پاکستان نہیں بلکہ یوم تشکرمنایا جائے گا۔

ڈپٹی سپیکررولنگ کیس پرعدالتِ عظمیٰ کے فیصلے کے بعد مولانا فضل الرحمٰن نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عدلیہ نے قوم کی امیدوں پرپورا اترتے ہوئے اطمینان بخش فیصلہ دیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اب آج احتجاج نہیں بلکہ یوم تشکرمنایا جائے گا ، قوم جمعہ کی نماز پڑھ کر پاکستان کی سلامتی کے لیے دعائیں کرے۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ جمہوریت بہترین انتقام ہے۔انھوں نے سپریم کورٹ کے تاریخی فیصلے پرسماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ردعمل میں جیے بھٹو، جیے عوام اور پاکستان زندہ باد کے نعرے بھی لکھے ہیں۔

انھوں نے کہا سپریم کورٹ کا فیصلہ ’’جمہوریت اورآئین کی فتح ہے۔اس سے پاکستان کے اداروں اور اس کے آئین کا تحفظ کیا گیا ہے۔انھوں نے کہا کہ خدا نے چاہا تو اب عدم اعتماد کا عمل مکمل ہو جائے گا اور ہم انتخابی اصلاحات کریں گے اور صاف اور شفاف انتخابات کی طرف بڑھیں گے۔

فیصلہ سنانے سے پہلے چیف جسٹس عمرعطابندیال نے چیف الیکشن کمشنرسکندرسلطان راجا کو روسٹرم پر بلایا اور استفسار کیا کہ کیا آپ نے پورے ملک کی نئی حلقہ بندیاں کرنا ہیں یا کسی ایک علاقے کی؟چیف الیکشن کمشنر نے جواب میں کہا کہ پورے ملک کی حلقہ بندیاں ہونی ہیں اور اس کام میں چھے سے سات ماہ لگیں گے اور نئی حلقہ بندیوں کا کام مکمل ہو سکے گا۔

انھوں نے کہا کہ شفاف انتخابات کے لیے ضروری ہے کہ حلقہ بندیاں ہوں، فاٹا کے انضمام کے بعد صوبہ خیبر پختونخوا کے تمام حلقے تبدیل ہوں گے ۔فاٹا کی 12 نشستیں ختم ہو کر خیبر پختونخوا میں ضم ہو گئی ہیں۔اس پرچیف جسٹس نے ہدایت کی کہ الیکشن کمیشن اپنی ذمے داری پوری کرنے کے لیے مکمل اقدامات کرے۔

عدالت عظمیٰ نے قبل ازیں سماعت مکمل کرنے کے بعد شام ساڑھے سات بجے فیصلہ سنانے کا اعلان کیا تھالیکن اس کا اعلان ایک گھنٹے کی تاخیرسے کیا گیا ہے۔اس سے قبل سپریم کورٹ کے احاطے میں سکیورٹی بڑھا دی گئی تھی اور پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں