قومی اسمبلی: افطارکے بعد وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد پرووٹنگ متوقع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

پاکستان کی پارلیمان کے ایوان زیریں قومی اسمبلی میں ہفتے کی شب افطارکے بعد وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد پر ووٹنگ متوقع ہے۔

وزیر اعظم کی قسمت کا فیصلہ کرنے کے لیے قومی اسمبلی کا اجلاس افطار اور نمازِمغرب کے وقفے کی وجہ سے شام ساڑھے سات بجے تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔

قومی اسمبلی کے اسپیکر اسدقیصر آج کے اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق صبح ساڑھے دس بجے تلاوت قرآن پاک کے ساتھ اجلاس شروع ہوا تھا۔ اس کے بعد ایم این اے شازیہ ثوبیہ کی حال ہی میں وفات پانے والی والدہ کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی۔

وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ قومی اسمبلی کے آج کے اجلاس کے ایجنڈے میں چوتھے نمبر پر ہے۔ قبل ازیں قومی اسمبلی کا اجلاس آج ساڑھے دس بجے شروع ہونا تھا لیکن اس میں دو گھنٹے کی تاخیر ہوئی تھی کیونکہ حزب اختلاف اور حکومتی اراکین نے مشاورت کے لیے الگ الگ اجلاس منعقد کیے تھے۔

وزیر اعظم پاکستان عمران خان
وزیر اعظم پاکستان عمران خان

ایوان میں متحدہ اپوزیشن پوری طاقت کے ساتھ سامنے آئی ہے۔ اجلاس ملتوی ہونے سے پہلے حکومتی بینچوں کے بہت کم ارکان موجود تھے۔ وزیراعظم عمران خان بھی موجود نہیں تھے۔

اپوزیشن کو عدم اعتماد کے وزیراعظم کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے لیے مجموعی طور پر 342 میں سے 172 قانون سازوں کی حمایت کی ضرورت ہے اور اس کے حامی ارکان کی تعداد 176ہو چکی تھی جبکہ حکمران پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بیس سے پچیس ارکان بھی ان کی حمایت کررہے ہیں۔

دوپہر کے وقت اجلاس ملتوی ہونے کے بعد اسپیکر چیمبر میں حکومتی اور اپوزیشن بینچوں کے درمیان اجلاس منعقد ہوا جہاں سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق ایوان کی کارروائی جاری رکھنے کا مطالبہ کیا گیا۔اس دوران میں حکومتی رکن امجدخان نیازی نے مختصر وقت کے لیے اجلاس کی صدارت کی۔

اسپیکر چیمبرمیں اجلاس میں حکومت کی جانب سے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی اور پی ٹی آئی رہنما عامرڈوگر نے شرکت کی جبکہ اپوزیشن کی نمائندگی کرتے ہوئے بلال بھٹو زرداری، راناثناء اللہ، ایاز صادق، نوید قمر اور مولانا اسعد محمود نے شرکت کی۔

اس کے بعد قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈرمیاں شہباز شریف کے چیمبر میں اپوزیشن کے پارلیمانی گروپ کا اجلاس بلایا گیا۔ تحریک التوا کے بعد ایوان میں گفتگو کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ نواز کے رکن خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ اسپیکر نے وعدہ کیا ہےکہ افطار کے بعد ووٹنگ ہو گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں