عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب،قومی اسمبلی کے اسپیکراورڈپٹی اسپیکر مستعفی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

پاکستان کی پارلیمان کے ایوان زیریں قومی اسمبلی میں وزیراعظم عمران خان کے خلاف حزب اختلاف کی پیش کردہ تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوگئی ہے۔قومی اسمبلی کے342 ارکان میں سے 174 نے اس کے حق میں ووٹ دیا ہے۔اس کی منظوری کے بعد عمران خان ملک کے وزیراعظم نہیں رہے ہیں۔

ایوان زیریں میں تحریک عدم اعتماد پر رائے شماری سے قبل اسپیکر اسد قیصر اور ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے استعفا دے دیا۔اسدقیصر نے قومی اسمبلی میں نصف شب سے چندے قبل مستعفی ہونے کااعلان کیا اور کہا کہ اب حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے سردارایازصادق اجلاس کی صدارت کریں گے۔

اسد قیصر اور قاسم سوری
اسد قیصر اور قاسم سوری

نصف شب کے معاً بعد سردار ایازصادق کی صدارت میں قومی اسمبلی میں وزیراعظم عمران کے خلاف تحریک عدم اعتماد کارروائی مکمل ہوئی ہے۔مستعفی اسپیکر نے یہ بھی کہاکہ وہ وزیراعظم کو معزول کرنے کی غیرملکی سازش کا حصہ نہیں بن سکتے۔انھوں نے کہا کہ انھیں کابینہ سے ’’اہم دستاویزات‘‘موصول ہوئی ہیں، جنھیں دیکھنے کے لیے انھوں نے قائد حزبِ اختلاف اور چیف جسٹس آف پاکستان کو مدعو کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ہمارے قوانین اورملک کے حق میں کھڑے ہونے کی ضرورت کے مطابق میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں اسپیکر کے عہدے پر نہیں رہ سکتا اور عہدہ چھوڑ رہا ہوں۔انھوں نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ قومی فریضہ ہے اور یہ سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے اس لیے میں پینل آف چیئرمین میں سے ایاز صادق کواجلاس کی کارروائی چلانے کا کہوں گا۔

اس کے بعد ایاز صادق نے کرسیِ صدارت سنبھالنے کے بعد قرارداد پڑھ کر سنائی اور ایوان کے عملہ سے کہا کہ وہ گھنٹیاں بجائیں تاکہ تمام اراکین کو مطلع کیا جا سکے کہ ووٹنگ شروع ہونے والی ہے۔

انھوں نے رات 11 بج کر 58 منٹ پر قرارداد پر ووٹنگ شروع کی اور جو اراکین قرارداد کے حق میں تھے، انھیں کہا کہ وہ بائیں جانب گیٹ سے باہر نکلیں۔ اس کے بعد انھوں نے اجلاس چار منٹ کے لیے ملتوی کردیا کیونکہ قواعد کے مطابق یہ اجلاس آدھی رات یعنی بارہ بجے کے بعد جاری نہیں رہ سکتا تھا۔

اتوار 10 اپریل کی تاریخ میں نیا اجلاس رات 12 بج کر 2 منٹ پر تلاوت قرآن مجید سے شروع ہوا۔ایازصادق نے عدم اعتماد کی قرارداد پر رائے شماری کے بعد نتیجے کا اعلان کیا اور کہا کہ 174 ارکان نے اس کے حق میں ووٹ دیا ہے۔واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے منحرف ارکان نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا اور وہ غیر جانبدار رہے ہیں۔

اس سے قبل تحریک عدم اعتماد کے ذریعے وزیراعظم عمران خان کی قسمت کا فیصلہ کرنے کے لیے بلایا گیا اجلاس قرارداد پر ووٹنگ سے قبل متعدد بار ملتوی کیا گیا تھا اور حکومت اجلاس میں تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ سے بچنے کے لیے لیت ولعل سے کام لیتی رہی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں