’’مادر پاکستان‘‘ بلقیس بانو ایدھی انتقال کر گئیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

معروف سماجی کارکن عبدالستار ایدھی کی بیوہ اور بلقیس ایدھی فاؤنڈیشن کی چیئرپرسن بلقیس ایدھی 74 برس کی عمر میں کراچی میں انتقال کر گئیں۔

عبدالستار ایدھی کے صاحبزارے فیصل ایدھی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ بلقیس ایدھی کا انتقال ہوگیا ہے۔ فیصل ایدھی نے بتایا کہ وہ چند روز سے علیل تھی اور جمعے کی شام حالت بگڑنے پر بلقیس ایدھی کو وینٹی لیٹر پر منتقل کیا گیا، تاہم وہ جانبر نہ ہوسکیں۔

یاد رہے کہ مرحومہ کو رواں ہفتے کے شروع میں ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔ بلقیس ایدھی کا دل کا عارضہ لاحق تھا اور اس سے قبل دو مرتبہ بائی پاس بھی ہوا تھا۔

مختصر سوانحی خاکہ

بلقیس بانو ایدھی عبد الستار ایدھی کی بیوہ، ایک نرس اور پاکستان میں گذشتہ 6 دہائیوں سے فعال ترین مخیر حضرات میں سے ایک تھیں اور بلقیس ایدھی فاؤنڈیشن کی سربراہ تھیں۔

ان کے فلاحوں کاموں میں ایدھی ہومز اور ملک بھر میں ایدھی مراکز میں جھولا بھی شامل ہے، جس کے ذریعے ہزاروں لاوارت بچوں کی جانیں بچالی گئیں۔ مادر پاکستان کہلانے والی بلقیس ایدھی 1947 میں کراچی میں پیدا ہوئیں۔

انہوں نے بلقیس ایدھی فاؤنڈیشن کی سربراہ کی حیثیت سے اپنے شوہر کے ساتھ خدمات عامہ کے لیے 1986 رومن میگسیسی اعزار (Ramon Magsaysay Award) حاصل کیا۔

حکومت پاکستان نے انہیں ان کی خدمات پر ہلال امتياز سے نوازا جبکہ بھارتی لڑکی گیتا کی دیکھ بھال کرنے پر بھارت نے انہیں 2015 میں مدر ٹریسا ایوارڈ سے نوازا تھا۔

گزشتہ برس ایک بین الاقوامی ادارے نے انہیں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے نمائندے پروفریسر یانگھی لی اور امریکی سائنس دان اسٹیفن سولڈز کے ہمراہ ‘دہائی کی شخصیت’ قرار دیا تھا۔

انتقال پر تعزیت

وزیر اعظم شہباز شریف نے بلقیس ایدھی کی وفات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلقیس ایدھی نے مرحوم عبدالستار ایدھی کے انسانیت کی خدمت کے مشن کو جاری رکھا۔ انہوں نے بلقیس ایدھی کو ان کی خدمات خراج عقیدت پیش کیا اور مرحومہ کے بلندی درجات اور سوگواران کو صبر جمیل کی دعا کی۔

صدر مملکت عارف علوی کی جانب سے ٹوئٹر پر تعزیتی بیان میں کہا گیا کہ ‘بلقیس ایدھی صاحبہ کے انتقال کا سن کر افسوس ہوا، انہوں نے عبدالستار ایدھی کے فلاحی کاموں میں ان کا شانہ بشانہ ساتھ دیا اور ان کی وفات کے بعد بھی اس کام کو جاری رکھا’۔ انہوں نے دعا کرتے ہوئے کہا کہ ‘اللہ مرحومہ کی مغفرت فرمائے’۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں