پنجاب اسمبلی:حمزہ شہباز ہنگامہ آرائی سے متاثرہ اجلاس میں 197 ووٹ لےکروزیراعلیٰ منتخب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

صوبہ پنجاب کی اسمبلی میں ہنگامہ خیزاجلاس کے بعد پاکستان مسلم لیگ نواز کے حمزہ شہباز نئے وزیراعلیٰ منتخب ہوگئے ہیں۔

ہفتے کے روز نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب کے لیے پنجاب اسمبلی میں ڈپٹی اسپیکر سردار دوست محمد مزاری پر حملہ کیا گیا اور پاکستان مسلم لیگ ق اور پاکستان تحریک انصاف کے وزارت اعلیٰ کے مشترکہ امیدوار چودھری پرویزالٰہی بھی مبیّنہ طور پر تشدد سے زخمی ہو گئے۔

پاکستان کے نئے وزیراعظم میاں شہبازشریف کے بیٹے حمزہ شہباز نے پنجاب اسمبلی میں197 ووٹ حاصل کیے ہیں۔انتخاب کے نتائج کا اعلان کرتے ہوئے ڈپٹی اسپیکر نے کہا کہ یہ دن ’’جمہوریت کی کامیابی‘‘کی نمائندگی کرتا ہے اور آج کے واقعات کے باوجود ووٹنگ میں حصہ لینے والے ارکان اسمبلی نے مثبت کردار ادا کیا ہے۔

پی ایم ایل ن کی نائب صدر مریم نواز نے الیکشن جیتنے پر اپنے چچازادبھائی حمزہ شہباز کو مبارک باد دی۔ انھوں نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ پنجاب کے بھائیو اور بہنو!2018 کے انتخابات میں آپ سے جو مینڈیٹ چوری ہوا تھا،وہ ایک بار پھر آپ کو واپس کر دیا گیا ہے، انھوں نے اعلان کیا کہ عوام کو ان کے مناسب حقوق ملیں گے۔

وزیراعلی منتخب ہونے کے لیے حمزہ شہباز کو 371 رکنی ایوان میں کم سے کم 186 ووٹوں کی ضرورت تھی۔ پنجاب اسمبلی میں پی ٹی آئی کے ارکان کی تعداد 183 ہے،، پی ایم ایل کیو 10، پی ایم ایل این 165، پاکستان پیپلز پارٹی کے سات اور پانچ آزاد ہیں اور ایک کا تعلق جماعت راہِ حق سے ہے۔

نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب کے لیے پنجاب اسمبلی کا اجلاس ہفتے کو ساڑھے گیارہ بجے شروع ہونا تھا لیکن شام پانچ بجے کے کچھ دیر بعد شروع ہوا جس کے بعد ڈپٹی اسپیکر نے حکم دیا کہ اسمبلی کے دروازے بند کر دیے جائیں اور ووٹنگ کے لیے کارروائی شروع کردی جائے۔اجلاس کی کارروائی سے قبل ٹیلی ویژن فوٹیج میں چودھری پرویزالٰہی کو آکسیجن دیتے ہوئے دکھایا گیا تھا جبکہ ان کے دائیں بازو پر پٹی باندھی گئی تھی۔

انھوں نے الزام لگایا کہ پی ایم ایل این کے ایم پی اے رانا مشہود نے ان کا بازو توڑا ہے۔انھوں نے کہا کہ ان کی (شہبازشریف کی) جلاوطنی کے دوران میں، میں نے حمزہ شہبازکی دیکھ بھال کی لیکن آج انھوں نے اپنی حقیقت کا مظاہرہ کیا۔یہ شریف کی جمہوریت ہے۔ انھوں نے آج حد یں عبور کرلی ہیں‘‘۔

انھوں نے مزید کہا کہ اصل ’’لڑائی‘‘پولیس کے اسمبلی میں داخل ہونے کے بعد ہوئی جو ملکی تاریخ میں پہلے نہیں ہوئی تھی۔میری رائے میں جمہوریت پر اس سے بڑا کوئی داغ نہیں ہو سکتا۔

اس سے قبل دونوں جماعتوں کی جانب سے نعرے بازی کی گئی جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے اراکین نے اپوزیشن بینچوں پر لوٹے پھینکے جس کے نتیجے میں ایوان میں عام لڑائی جھگڑے شروع ہوگئے۔

دوست محمد مزاری اسمبلی میں داخل ہوئے تو پی ٹی آئی کے ارکان نے ان پر لوٹے پھینکے اور ان کے گرد چکر لگانے کی کوشش کی جبکہ ایک ایم پی اے نے ان بال کھینچ لیے اور دیگر ان پر مکے اور تھپڑ برساتے نظر آئے۔اس پراسمبلی کے محافظوں نے فوری طور پر دوست مزاری کو چیمبر میں منتقل کردیا۔

بعد ازاں بلٹ پروف جیکٹوں میں ملبوس بلوہ فورس کے افسراور اہلکار اسمبلی کے پرانے گیٹ کے ذریعے عمارت میں داخل ہوئے تھے۔ڈپٹی اسپیکر نے چیف سیکریٹری اور آئی جی پنجاب کو لکھے گئے خط کے ذریعے انھیں طلب کیا۔

ہنگامہ آرائی کے بعد پنجاب اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو میں پی ایم ایل این کے رہ نما عطاءاللہ تارڑ نے پرویزالٰہی اور ان کے "گینگسٹروں کے گروپ" کو پنجاب اسمبلی کے اندر ہونے والے تشدد کا ذمے دار ٹھہرایا۔انھوں نے کہا کہ آج جو کچھ ہوا وہ قانون اور آئین کی بہت بڑی خلاف ورزی تھی۔ آج ڈپٹی اسپیکر پر حملہ کیا گیا۔ یہ دہشت گردی کا واقعہ ہے۔

واضح رہے کہ وزیراعلیٰ کے انتخاب سے پہلے اور بعد میں کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو روکنے کے لیے اسمبلی اور اس کے آس پاس سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ پولیس کی معاونت کے لیے نیم فوجی رینجرز کو بھی طلب کیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں